ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 153 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 153

153 ذریعہ ثابت ہوئی۔یہی وہ بابرکت ادارہ تھا جس نے ایک عرصہ تک دنیا میں تبلیغ اسلام کی ذمہ داری نہایت خوش اسلوبی سے سنبھالے رکھی۔حضور نے اپریل 1914ء میں جب اس انجمن کے مقاصد پورے کرنے کے لئے مالی تحریک فرمائی تو مخلصین جماعت مردوں اور عورتوں نے اسلام کی اشاعت کے لئے یکساں قربانی کی۔بعض مخلصین نے تبلیغ اسلام کے لئے اپنی ساری زمین وقف کر دی اور بعض مستورات نے اپنے زیور پیش کر دیئے۔( تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ 143 تا153) اسلام پر ہونے والے اعتراضات کا جواب دینے کے لئے مجلس مذہب و سائنس کا قیام حضرت خلیفہ مسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے فروری 1945ء میں جماعت احمدیہ میں اعلیٰ علمی ، مذہبی اور سائنٹفک تحقیق کا ذوق پیدا کرنے کے لئے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کی زیر صدارت " مجلس مذہب وسائنس " کے نام سے ایک مجلس کی بنیا درکھی۔جس کا بنیادی مقصد سائنس، فلسفہ، اقتصادیات ، عمرانیات اور دوسرے علوم جدیدہ کی طرف سے مذہب پر عموماً اور اسلام پر خصوصاً ہونے والے اعتراضات کی اعلی سطح پر تحقیق اور ان کے جوابات تیار کرنا تھا۔چنانچہ ابتداء میں اسلام اور مذہب پر وارد ہونے والے اعتراضات کی مکمل فہرست تیار کی گئی اور ایک سال کے اندر اندر مختلف طبقوں اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے نو سکالرز نے مختلف عناوین پر مضامین پڑھ کر سنائے۔ان میں سے بعض میں حضور نے بنفس نفیس شرکت فرمائی۔اس کام کو مزید وسعت دینے کے لئے تعلیم الاسلام کالج میں بھی ریسرچ سوسائٹی قائم فرمائی جس نے اپنی سطح پر درج بالا مقصد کے حصول کے لئے کام کیا۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں۔اس وقت ہمارے لئے معین مذہبی تعلیمات کو چھوڑ کر تین مقابلے در پیش ہیں۔ان میں سے بعض تو حقیقی ہیں اور بعض خیالی۔لیکن بہر حال ان تینوں کا مقابلہ کرنا اس مجلس کا کام ہے۔پہلا دائرہ جو اقتصادیات کا دائرہ ہے ایک عملی دائرہ ہے جس کا اسلام اور احمدیت سے بھاری مقابلہ ہے۔ہمیں اس کے مقابلہ پر وہ نظام پیش کرنا ہے جو اسلام پیش کرتا ہے اور اسے غالب کر کے دکھانا ہے۔دوسرا دائرہ جو فلسفہ سے تعلق رکھتا ہے ایک قولی مقابلہ ہے۔یہ لوگ فلسفے کے چند نظرئے پیش کرتے ہیں جو بعض صورتوں میں اسلامی تعلیموں کے ساتھ سخت ٹکراتے ہیں۔ہمیں اس کے مقابلہ میں اسلام کے نظریئے پیش کرنے اور ان کی فوقیت ثابت کرنی ہے۔تیسرا حلقہ سائنس کا ہے۔اس حلقہ کا مذہب کے ساتھ کوئی حقیقی ٹکراؤ نہیں ہے کیونکہ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے سائنس خدا کا فعل ہے اور مذہب خدا کا قول ہے مگر چونکہ بعض لوگ کوتاہ بینی کی وجہ سے غیر ثابت شدہ حقائق کو ثابت شدہ حقائق سمجھ کر اعتراض کر دیتے ہیں۔اس لئے اس کے مقابلہ کی بھی ضرورت ہے۔تو یہ تین دائرے ہیں۔ایک عملی دوسرا قولی تیسرا خیالی یعنی غیر حقیقی جن کے مقابلہ کے لئے یہ مجلس مذہب و سائنس قائم ہوئی ہے۔" ( تاریخ احمدیت جلد 9 صفحہ 70-71)