ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 152 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 152

152 اب سب دنیا دیکھ لے گی کہ آئندہ اسلام مسیحیت کو کھانا شروع کر دے گا اور دنیا کا آئندہ مذہب وہی مذہب ہو تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ 257-258) گا جو اس وقت سب سے کمزور سمجھا جاتا ہے۔حضور نے مسلمانوں کو بھی تحریک عدم موالات اور ہجرت کے نقصانات سے ایک اور رسالہ میں بروقت انتباہ فرما دیا تھا۔مگر مسلمان لیڈروں نے مسٹر گاندھی کا ساتھ دیا۔اس کتاب لا جواب میں حضور نے نہایت غیرت دلانے والے لفظوں میں لکھا کہ اگر یہ درست ہے کہ ترک موالات سے ایک دو سال میں تم اپنے مقاصد میں کامیاب ہو جاؤ گے تو اسلام کی دوبارہ زندگی یقینا مسٹر گاندھی کے ہاتھوں ہوگی اور نعوذ بالله من ذالك ابد الآباد تک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر مبارک با را حسان سے ان کے سامنے جھکا رہے گا۔۔۔حضرت مسیح تو خیر ایک نبی تھے۔اب جس شخص کو تم نے اپنا ند ہی راہنما بنایا ہے وہ تو ایک مومن بھی نہیں پس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بنک کا نتیجہ پہلے سے بھی زیادہ سخت دیکھو گے اور اگر باز نہ آئے تو اس جرم میں مسٹرگا ندھی کی قوم کی غلامی اس سے زیادہ تم کو کرنی پڑے گی جتنی کہ حضرت مسیح کی امت کی غلامی تم کہتے ہو کہ ہمیں کرنی پڑی ہے۔ترک موالات و احکام اسلام صفحه 85-86) مگر افسوس کہ حضور کی یہ آواز بہرے کانوں سے سنی گئی۔عوام تو رہے ایک طرف مسلمانوں کے قومی لیڈروں نے اس امید خام کی وجہ سے کہ اتحادیوں کے ہاتھوں ترکی حکومت کو جو مشکل پیش آگئی ہے وہ حل ہو جائے گی۔اور ہم انگریز کی غلامی سے بھی آزاد ہو جائیں گے مسٹر گاندھی اور کانگریس کے آگے گھٹنے ٹیک دیئے۔اور بعض ممتاز لیڈروں نے تو ان کے لئے وہ کچھ کہا کہ کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ کس طرح کہا گیا۔چنانچہ ظفرالملک صاحب علوی نے کہا کہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبین نہ ہوتے تو میں ضرور کہتا کہ اس زمانے کے نبی مہاتما گاندھی ہیں۔جناب ڈاکٹر آصف علی نے اپنی تقریر میں کہا کہ میں صدق دل سے یقین کرتا ہوں کہ اس صدی کے مجدد مہاتما گاندھی ہیں۔مولانا شوکت علی نے کہا۔میں کہتا ہوں امام مہدی گاندھی جی ہیں۔مولانا محمد علی جو ہر کامریڈ نے جیل سے پیغام بھیجا کہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بے سوچے سمجھے مہاتما گاندھی کی پیروی کرتا ہوں۔امیر شریعت احرار سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری نے مسجد خیر الدین امرت سر میں کہا کہ میں مسٹر گاندھی کو نبی بالقوۃ مانتا ہوں۔تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ 261-262) ہزاروں کی تعداد میں مسلمان اونے پونے جائیدادیں بیچ کر افغانستان ہجرت کر گئے۔واپسی کا ارادہ کیا تو تباہ حال ، خستہ، مفلس ، قلاش اور تہی دست گھر بار سے بھی گئے اور سینکڑوں کی تعداد میں راستہ میں ہی مرکھپ گئے۔انجمن ترقی اسلام کے ذریعہ اسلام کی ترقی وترویج حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے خلافت پر متمکن ہونے کے بعد 1914ء میں "انجمن ترقی اسلام " قائم فرمائی۔یہ انجمن بھی اپنے نام کی طرح خدا تعالیٰ کے فضل سے اسلام کی ترقی واشاعت کا نہایت مؤثر