ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 151
151 گئے۔حضرت سیٹھ عبداللہ الہ دین صاحب کی قبولیت احمدیت اس کتاب کی روحانی تاثیرات و برکات کا نتیجہ ہے۔تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ 155) ii۔16 ستمبر 1914ء کو نواب سلطان جہاں بیگم صاحبہ والی بھو پال کو ایک تبلیغی خط تحریر فرمایا۔iii۔ایک فرمانروائے ریاست کو ایک تبلیغی خط کے ساتھ "تحفۃ الملوک "اور "حقیقۃ الندوة" اپنی تصانیف بھجوائیں۔تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ 174-175) iv۔افغانستان کے بادشاہ پر اتمام محبت کے لئے "دعوۃ الامیر "تحریر فرمائی۔(تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ 492) تحفہ شہزادہ ویلیز اور اسلام کی برتری شہزادہ ویلیز (ولی عہد برطانیہ) دسمبر 1921ء میں جب ہندوستان آئے تو حضرت خلیفہ مسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے " تحفہ شہزادہ ویلیز " کے نام پر ایک عظیم الشان کتاب تصنیف فرمائی۔جس میں حضور نے اسلام کی سچائی نہایت واشگاف الفاظ میں بیان فرمائی۔اخبار "ذوالفقار " (24 اپریل 1922 ء) نے اس کتاب کے حوالہ سے لکھا کہ : ہم خلیفہ ثانی کی سلسلہ احمدیہ کی اشاعت اسلام میں ہمت کی داد دیئے بغیر نہیں رہ سکتے۔۔۔تحفہ ویلز کا بہت سا حصہ ایسا ہے جو تبلیغ اسلام سے لبریز ہے اور ایک عظیم الشان کارنامہ ہے کہ جس کو دیکھتے ہوئے غیر احمدی ضروررشک کریں گے یہ ضروری ہے کہ ہم اخبار نویسی کے میز پر تعصب کی مالا گلے سے اتار کر رکھ دیتے ہیں۔اس واسطے اس تحفہ کو دیکھ کر ہم عش عش کر اٹھے۔اس تحفہ میں فاضل مصنف نے سنت رسول پر پورا پورا عمل کیا ہے۔دعوت اسلام کو بڑی آزادی اور دلیری کے ساتھ برطانیہ کے تخت و تاج کے وارث تک پہنچا دیا ہے۔یہ دوسری بات ہے کہ اسلام کے کسی فرقہ کا کوئی فرد یا موجودہ زمانے کا کوئی شورش پسند اخبار حسد اور بغض کی راہ سے اس تحفہ پر کوئی حملہ کرے۔۔۔۔۔ہمیں اس تحفہ میں کوئی ایسا مقام دکھائی نہیں دیا کہ جس میں خوشامد سے کام لیا گیا ہو۔الفضل 8 مئی 1922 ء بحوالہ تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ 293-294) ترک موالات معاہدہ میں اسلام کی خاطر بر وقت مشورہ فاتح اتحادی ممالک نے ترکی سے جو شرائط صلح طے کیں وہ انتہا درجہ کی ذلت آمیز تھیں۔ترکی سلطنت کے حصے بخرے کرنے کے علاوہ اور کئی ایسی تجاویز تھیں جو اسلام کو نیچا دکھانے اور بدنام کرنے کے لئے کافی تھیں۔اس پر حضور نے "معاہدہ ترکیہ اور مسلمانوں کا آئندہ رویہ " کے عنوان سے ایک کتابچہ تحریر فرمایا۔جس میں حضور نے واضح طور پر لکھا کہ میرے نزدیک اس معاہدہ کی کئی شرائط میں حقوق کا اتلاف ہوا ہے۔مسلمانوں کے سامنے ہجرت کرنے، جہاد کرنے کی جو تجاویز رکھی ہیں وہ شرعاً اطلاق نہیں پاتیں۔نیز اس مضمون کے آخر میں حضور نے نہایت جلالی انداز میں تحریر فرمایا کہ :