ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 150
150 میں نہ صرف پادریوں کے الزامات کا مختصر جواب تھا بلکہ ان کو پبلک مناظرہ کی دعوت بھی دے دی۔جس نے عیسائیوں میں کھلبلی مچادی اور مسلمانوں کی طرف سے خوشی اور مسرت کے خطوط آنے شروع ہو گئے۔چنانچہ زنجبار کے مشہور و معروف عالم شیخ عبداللہ صالح نے مکرم جلال الدین قمر صاحب کے نام سواحیلی زبان میں لکھے گئے خط میں مبارک باد دینے کے بعد لکھا کہ :۔اگر چہ میں احمدیوں کی بعض باتوں سے اتفاق نہیں رکھتا لیکن خدا تعالیٰ اور اس کے مقدسوں کے سامنے اس بات کا اعتراف کئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ احمدیوں کے اندر حفاظت اسلام کے لئے جو غیرت ہے وہ مجھے بے حد محبوب ہے۔احمدی قطعاً اس بات کو برداشت نہیں کر سکتے کہ اسلام کے خلاف کچھ لکھایا کہا جائے اور جب تک اس کا شافی جواب دے کر دشمن اسلام کو خاموش نہ کر د میں دم نہیں لیتے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فرضی تصویر پر احتجاج تاریخ احمدیت جلد 6 صفحہ 257) وسط 1957 ء کا یہ افسوس ناک واقعہ ہے کہ جنوبی بھارت میں ندیب فوٹو پبلشر کمپنی حیدر آباد دکن کی طرف سے آنحضرت اور آپ کے صحابہ کی فرضی تصویر شائع ہوئی۔اس شرمناک حرکت کا مکرم ناظر صاحب دعوت و تبلیغ قادیان نے فوری نوٹس لیا اور اس پر احتجاج کرتے ہوئے لکھا:۔اس قسم کا فرضی فوٹو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا شائع کرنا اور پھر اس کے لئے نذرانہ طلب کرنا بہت معیوب، قابل اعتراض اور مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس لگانے کا باعث ہے اور ہم اس کی اشاعت پر سخت نفرت اور دکھ کا اظہار کرتے ہیں۔" اسلام کے دفاع میں مباحثات و مناظرات تاریخ احمدیت جلد 19 صفحہ 733-734) اسلام پر اٹھنے والے اعتراضات کے جوابات کے لئے ایک طریق مباحثوں اور مناظروں کا بھی ہے۔جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دور سے جاری ہے۔لیکن حضرت خلیفہ امسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے دور میں اس میں بہت تیزی آئی اور ہزاروں کی تعداد میں مخالفین اسلام کے ساتھ مباحثے بھی ہوئے اور مناظرے بھی۔جن میں سے بعض میں تو حضور نے خود شرکت فرمائی اور باقیوں میں علمائے سلسلہ نے حصہ لے کر کامیابی سمیٹی۔یہ مباحثے و مناظرے پنڈتوں بھکشوؤں اور پادریوں سے ہوئے۔ان کی فہرست بہت طویل ہے۔صرف 1933 ء میں تاریخ احمدیت نے 178 مباحثات ومناظرات ریکارڈ کئے ہیں۔بادشاہوں کو اسلام کا پیغام جون 1914ء میں ایک خواب کی بناء پر شاہ دکن کو پیغام حق پہنچانے کے لئے آپ نے "تحفۃ الملوک" کتاب تصنیف فرمائی۔قادیان سے تین افراد یکے بعد دیگرے ان کتابوں کی تقسیم کے لئے حیدر آباد دکن بھجوائے تاریخ احمدیت جلد 6 صفحہ 158)