ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 149 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 149

149 " یہ ایک نہایت ہی افسوسناک امر ہے کہ بعض عیسائی ممالک میں اب اسلام کی تبلیغ پر بھی پابندیاں عائد کی جارہی ہیں۔پہلے عیسائی ممالک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف رات اور دن جھوٹ بولتے رہتے تھے ہم نے ان افتراؤں کا جواب دینے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقی شان دنیا میں ظاہر کرنے کے لئے اپنے مبلغ بھیجے تو اب ان مبلغوں کی آواز کو قانون کے زور سے دبانے کی کوشش کی جارہی ہے اور اسلام کی تبلیغ سے انہیں جبر ارو کا جاتا ہے۔مسلمان حکومتوں کا فرض ہے کہ وہ اسلام اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کی بلندی کے لئے عیسائی حکومتوں پر زور دیں کہ وہ پین کو اس سے روکیں ورنہ ہم بھی مجبور ہوں گے کہ ہم عیسائی مبلغوں کو اپنے ملکوں سے نکال دیں۔دیکھو سویز کے معاملہ میں مصر کی حکومت ڈٹ گئی اور آخر اس نے روس کو اپنے ساتھ ملا لیا۔اگر سویز کے معاملہ میں مصر ڈٹ سکتا ہے تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کی بلندی کے لئے پاکستان کی حکومت اگر ڈٹ جائے تو کیا وہ دوسری اسلامی حکومتوں کو اپنے ساتھ نہیں ملا سکتی۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت یقینا کروڑ سویز سے بڑھ کر ہے۔اگر ایک سویز کے لئے امریکہ ار برطانیہ کے مقابلہ میں مصر نے غیرت دکھائی اور وہ ڈٹ کر کھڑا ہو گیا تو کیا دوسری اسلامی حکومتیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اتنی غیرت بھی نہیں دکھا سکتیں۔انہیں عیسائی حکومتوں سے صاف صاف کہہ دینا چاہئے کہ یا تو تم اسلامی مبشرین کو اجازت دو کہ وہ تمہارے ملکوں میں اسلام کی اشاعت کریں ورنہ تمہارا بھی کوئی حق نہیں ہوگا کہ تم ہمارے ملکوں میں عیسائیت کی تبلیغ کرو۔اگر تم ہمارے ملک میں عیسائیت کی تبلیغ کر سکتے ہو تو تمہارا کیا حق ہے کہ تم کہو کہ ہم اسلام کی باتیں نہیں سن سکتے۔بے شک ہمارے مذہب میں رواداری کی تعلیم ہے مگر ہمارے مذہب کی ایک یہ بھی تعلیم ہے کہ اگر کوئی تمہارے ساتھ بے انصافی کرے تو تم بھی اس کے ساتھ ویسا ہی سلوک کرو۔یہ ایک نہایت صاف اور سیدھا طرز ہے مگر افسوس ہے کہ مسلمان حکومتوں کا ذہن ادھر نہیں جاتا اور وہ اسلام کے لئے اتنی بھی غیرت نہیں دیکھا تیں جتنی کرنل ناصر نے سویز کے متعلق غیرت دکھائی۔اگر مسلمان حکومتیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے سویز جتنی غیرت بھی دکھا ئیں تو سارے جھگڑے ختم ہو جائیں اور اسلام کی تبلیغ کے راستے کھل جائیں۔اور جب اسلام کی تبلیغ کے راستے کھل گئے تو یقیناً سارا یورپ اور امریکہ ایک دن مسلمان ہو جائے گا۔" ( تاریخ احمدیت جلد 12 صفحہ 48-50) مشرقی افریقہ میں توہین رسالت کے مقابل پر ناموس رسالت کے لئے علم بلند کرنا حضرت مصلح موعودؓ نے مبلغین کا جال تمام دنیا میں پھیلا دیا۔ان مبلغین کے ذریعہ سے اپنے امام کی رہنمائی اور قیادت میں ناموس رسالت کا علم بلند ہوا اور آج بھی بلند سے بلند تر ہوتا جارہا ہے۔جولائی ، اگست 1950ء میں طبورہ کے ایک رومن کیتھولک پادری نے اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف اپنے رسالہ "KIONGOZI" میں بہت کچھ لکھا۔جس پر مبلغ اسلام مکرم مولانا جلال الدین قمر صاحب نے مکرم امری عبیدی کی معاونت سے ایک مختصر سا اشتہار راتوں رات تیار کر کے اور چھپوا کر منظر عام پر لے آئے۔جس