ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 148
148 دل میں عیسائیت باقی ہے اس لئے میں میسیج کا ضرور ذکر کروں گا۔وہ کہنے لگا میں مسیح کے خلاف کوئی بات نہیں سن سکتا۔میں نے کہا تو میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف کوئی بات نہیں سن سکتا۔اگر تم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ جاری رکھو گے تو تمہیں مسیح کے خلاف بھی میری زبان سے باتیں سننی پڑیں گی۔اس پر غصہ میں اس نے بات بند ( تفسیر کبیر جلد 8 صفحہ 248) کر دی اور چلا گیا۔" یسوع کے مقابل پر آنحضور کے لئے غیرت عیسائی کہتے ہیں کہ مسیح نے ایک دفعہ صلیب پر چڑھ کر سب گنہ گاروں کا کفارہ ادا کر دیا تھا۔مگر مسیح کو تو ساری عمر میں صرف وہی ایک واقعہ پیش آیا۔لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زندگی کے ہرلمحہ میں لوگوں کے لئے صلیب پر چڑھے اور آپ نے ان کے لئے ہزاروں نہیں لاکھوں موتیں قبول کیں۔( تفسیر کبیر جلد 7 صفحہ 63) دنیا میں آخری جھنڈ امحمد کا گاڑا جائے گا 26 دسمبر 1947 کو پُر شوکت الفاظ میں تقریر کرتے ہوئے حضور نے فرمایا۔" عیسائیت نے سراٹھایا اور ایک لمبے عرصہ تک اس نے حکومت کی مگر اب عیسائیت کی حکومت اور اس کے غلبہ کا خاتمہ ہے۔وہ چاہتے ہیں کہ عیسائیت کے خاتمہ کے ساتھ ہی دنیا کا بھی خاتمہ ہو جائے تا وہ کہہ سکیں کہ دنیا پر جو آخری جھنڈا لہرایا وہ عیسائیت کا تھا۔مگر ہمارا خدا اس امر کو برداشت نہیں کر سکتا۔ہمارا خدا یہ پسند نہیں کرتا کہ دنیا پر آخری جھنڈا عیسائیت کا لہرایا جائے۔دنیا میں آخری جھنڈ امحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گاڑا جائے گا اور یقینایہ دنیا تباہ نہیں ہوگی جب تک محمد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈ ا ساری دنیا پر اپنی پوری شان کے ساتھ نہیں لہرائے گا۔" ( تاریخ احمدیت جلد 9 صفحہ 782) سپین میں اسلام پر پابندی اور مصلح موعودؓ کی دینی غیرت کا اظہار 50ء کی دہائی جماعت احمدیہ میں وہ مبارک دہائی ہے جب حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی خدا دادفر است و بصیرت نے یورپ میں اسلام کا علم بلند کرنے کا نہ صرف فیصلہ فرمایا بلکہ مختلف ممالک میں مبلغین بھی بھجوائے۔سپین میں مکرم کرم الہی ظفر صاحب اسلام کا پیغام پہنچانے کے لئے پہنچے۔آپ نے گلیوں کوچوں اور بازاروں میں کھڑے ہو کر اسلام کا پیغام پہنچانا شروع کیا جس سے احمدیت یعنی حقیقی اسلام کا نفوذ بڑھنے لگا اور کیتھولک پادریوں نے سرکاری حلقوں سے گٹھ جوڑ کر کے تبلیغ اسلام پر پابندی لگوا دی۔جو فی الواقع اپنی ذات میں ایک تکلیف دہ امر تھا۔حضرت مصلح موعودؓ نے 20 اپریل 1956 ء کو ایک پر جلال خطبہ ارشاد فرمایا جس میں پاکستان میں عیسائی پادریوں اور یہودی منادوں کی کھلے عام تبلیغ کا ذکر کیا کہ ہماری حکومت تو اس کی اجازت دیتی ہے۔اگر آپ اس حرکت سے باز نہ آئے تو پھر ہماری حکومت کو بھی سوچنا چاہئے۔آپ نے اسلامی حکومتوں کو مخاطب ہوکر فرمایا۔