ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 147
147 ویمبلے (انگلستان ) کانفرس کے ذریعہ اسلام کا بول بالا 1924ء میں انگلستان کے مشہور و معروف پارک ویمبلے میں عالمی نمائش کا پروگرام تھا۔جس میں ایک مذاہب کا نفرس بھی منعقد کرنا تھی۔جس میں مختلف مذاہب کے نمائندوں نے شامل ہو کر اپنے اپنے مذہب کے اصولوں پر ہوکر روشنی ڈالنی تھی۔اس سلسلہ میں حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفہ اسیح الثانی کو اسلام کا نقطہ نظر بیان کرنے کی دعوت ملی تبلیغ اسلام کا ایک اچھا موقع جانتے ہوئے احباب جماعت کے مشورہ کے ساتھ حضور نے یہ دعوت قبول فرمالی اور اس کے لئے احمدیت یعنی حقیقی اسلام" کے عنوان پر مضمون لکھنا شروع کر دیا۔جس میں اسلام کی دلکش اور اور جامع تصویر پیش فرمائی۔اس کے ساتھ ہی ایک مختصر مضمون سلسلہ احمدیہ کے نام سے تیار فرمایا۔حضور نے اس مبارک سفر کے دوران بعض عرب ممالک میں قدم رنجہ فرمایا۔روم میں پوپ سے ملاقات کا بھی پروگرام تھا۔جو پایہ تکمیل تک نہ پہنچ سکا۔تاہم روم کے سب سے مشہور اور کثیر الاشاعت اخبار "لاٹر بیونا" کے نمائندہ نے انٹرویو کے دوران سوال کیا کہ آپ پوپ کو ملتے تو کیا کہتے۔حضور نے جواب دیا سب سے بہترین تحفہ جو میرے پاس ہے میں اسے پیش کرتا اور وہ یہ ہے کہ میں اسے دعوت اسلام دیتا اور اس نور کی طرف بلاتا جوانسانوں کو خدا تک پہنچادیتا ہے۔( الفضل 23 ستمبر 1924ء) اپنے لندن قیام کے دوران حضور نے اپنے آپ کو اسلام کی خدمت کے لئے وقف رکھا اور کئی ایک اہم لیکچرز بھی دیئے۔ویمبلے کا نفرس میں حضور کا مضمون جناب چوہدری سر محمد ظفر اللہ خان صاحب نے آپ کی موجودگی میں پڑھ کر سنایا جو بہت پسند کیا گیا۔خود صدرا جلاس نے خوب تعریف کی اور کہا " مضمون کی خوبی اور لطافت کا اندازہ خود مضمون نے کرالیا ہے۔" مولوی عبدالقادر دانش صاحب دہلوی اپنی ملازمت کے سلسلہ میں 45-1944 اٹلی میں مقیم رہے۔آپ نے پوپ ( پاپائے روم ) پیٹس دوازدہم کا رڈ نیل پسلی سے ملاقات کی اور اسلام کا پیغام ان کو دیا۔جوان الفاظ میں تھا۔اگر تم محمد پر حملہ جاری رکھو گے یسوع بارے باتیں بھی سنی پڑیں گی آپ خود فرماتے ہیں:۔" مجھے ایک دفعہ انگلستان میں ایک دہر یہ ڈاکٹر ملنے کے لئے آیا اور میں نے دیکھا کہ تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کر دیتا۔میں نے اسے سمجھایا کہ یہ طریق درست نہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر تمہیں حملہ نہیں کرنا چاہیے مگر وہ آریوں کی طرح برابر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر حملے کرتا چلا گیا۔آخر جب میں نے دیکھا کہ وہ میرے صبر سے ناجائز فائدہ اٹھا رہا ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر حملہ کرنے میں بڑھ رہا ہے تو میں نے یسوع کی حقیقت اس کے سامنے کھولنی شروع کر دی۔ابھی میں نے چند ہی باتیں کی تھیں کہ اس کا رنگ سرخ ہو گیا اور کہنے لگا۔آپ مسیح کا ذکر کیوں کرتے ہیں۔میں نے کہا میں سمجھ گیا ہوں کہ گوتم دہر یہ ہومگر تمہارے