ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 146 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 146

146 صلی اللہ علیہ وسلم سے افضل سمجھتے تھے۔بلکہ آپ پر ایمان نہ رکھتے تھے اور مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی عظمت آپ کے دل میں نہ تھی۔اور آپ چاہتے تھے کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی نعوذ باللہ من ذالک اینٹ سے اینٹ بج جائے (نصیب دشمناں) اور یہ کہ جماعت احمدیہ کا بھی یہی عقیدہ ہے تو کیوں احرار کے لیڈروں نے میرے الفاظ کے مترادف الفاظ میں بالمقابل قسم شائع نہیں کر دی۔اگر وہ بھی قسم کھاتے تو لوگوں کو پتہ چل جاتا کہ وہ بھی مباہلہ کے لئے تیار ہیں۔یا پھر پیش کردہ شرائط ہی شائع کر دیتے اور لکھ دیتے کہ ہمیں یہ منظور ہیں تاریخ احمدیت جلد 7 صفحہ 283-284) احرار کا اپنا رویہ ہتک رسول کا موجب ہے احرار کی طرف سے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بہتک اور توہین کا جماعت احمد یہ پر الزام کا ذکر ہورہا ہے۔اس سلسلہ میں جماعت کی مخالفت میں احرار جلوس بھی نکال رہے ہیں، گلیوں میں احمدیوں کے خلاف شور بھی مچارہے ہیں جبکہ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ فساد نہ کرو۔حضرت مصلح موعودؓ نے ان کے اس غیر اسلامی فعل کے حوالہ سے لکھا کہ اگر یہ لوگ عاشق رسول ہیں، آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا احترام کرتے ہیں تو پھر اسلامی تعلیم کے منافی گلیوں، بازاروں میں جماعت کے خلاف ہلہ گلہ کیا۔اس طرح کے فساد، توڑ پھوڑ تو اسلامی تعلیم نہیں۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں۔"اے اسلام کی غیرت رکھنے والو! اور اے وہ لوگو! جن کے دل میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذرا بھی عشق ہے میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ کیا آپ ایک منٹ کے لئے بھی یہ خیال کر سکتے ہیں کہ ان مجالس اور ان جلوسوں کو رسول پسند کر سکتے تھے؟ کیا اگر کوئی دشمن ایسے جلوس کا نقشہ کھینچ کر یہ کہے کہ نعوذ بالله من ذالک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے کسی جلوس کو پسند فرمایا تھا۔تو کیا آپ کے جسم پر لرزہ طاری نہ ہو جائے گا؟ کیا آپ اسے غلط بیانی کرنے والا نہیں کہیں گے؟ پھر آپ یہ کس طرح سمجھ سکتے ہیں کہ ایسی تقریریں کرنے والے اور ایسے جلوس نکلوانے والے احترام رسول کی خاطر ایسا کر رہے ہیں؟ کیا سچ جھوٹ سے قائم ہوتا ہے؟ کیا احترام اور اعزار گالی گلوچ کے ذریعہ سے قائم کیا جاتا ہے؟ کیا یہ مظاہرات دنیا کی نگاہ میں اسلام کی عزت کو بڑھانے والے ہیں یا گھٹانے والے؟ کیا اگر اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ نظارہ دکھا دے تو آپ فخر کریں گے کہ ان کے نام پر تقریر میں کرنے والے امن کا نام لے کر فساد کی تعلیم دے رہے ہیں۔کیا وہ اس جلوس کو دیکھ کر خوش ہوں گے؟ جس میں گالیاں دی جاتی ہیں۔جس میں ماتم کیا جاتا ہے۔جس میں کتوں کو جوتیاں مار کر اپنے ملک کا وزیر خارجہ قرار دیا جاتا ہے۔کیا اگر صحابہ یہ نظارہ دیکھیں تو وہ خوش ہو کر ایک دوسرے سے کہیں گے کہ یہ ہیں ہمارے بچے پیرو۔یہ وہی کام کر رہے ہیں جس کا کرنا ہم پسند کرتے تھے؟ اگر ایسا نہیں بلکہ آپ کا دل گواہی دتیا ہے کہ نہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ کام پسند کر سکتے تھے نہ صحابہ ان کاموں کا کرنا پسند کر سکتے تھے تو بتائیں کہ حرمت رسول کا دعوی کرنے والے اگر بچے ہیں تو یہ کام کیوں کرتے ہیں؟ " تاریخ احمدیت جلد 15 صفحہ 338)