ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 145 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 145

145 کی۔بھلا ان آنکھوں سے دیکھنے کے بعد بھی کوئی شبہ رہ سکتا ہے۔منشی روڑے خان صاحب جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مشہور صحابی گزرے ہیں کپورتھلہ میں تحصیلدار تھے۔ایک دفعہ کا ذکر ہے مولوی ثناء اللہ صاحب کپورتھلہ یا کسی قریب کے مقام پر گئے تو ان کے دوست انہیں بھی مولوی صاحب کی تقریر سنانے لے گئے۔مولوی ثناء اللہ صاحب نے اپنی تقریر میں جب مسیح موعود علیہ والسلام پر اعتراضات کئے تو منشی روڑے خان صاحب کے ساتھی بہت خوش ہوئے اور انہوں نے بعد میں انہیں کہا آپ نے دیکھا مرزا صاحب پر کیسے کیسے اعتراض پڑتے ہیں۔منشی صاحب کہنے لگے تم ساری عمر اعتراض کرتے رہو میں نے تو اپنی آنکھوں سے مرزا صاحب کو دیکھا ہے۔انہیں دیکھنے کے بعد اور ان کی سچائی کا اپنی انکھوں سے مشاہدہ کرنے کے بعد میں کس طرح تمہاری باتیں مان سکتا ہوں۔ہماری جماعت میں ابھی سینکڑوں نہیں ہزاروں وہ لوگ زندہ ہیں جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ والسلام کے اس عشق کا معائنہ کیا جو آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے تھا۔سینکڑوں نہیں ہزاروں وہ لوگ زندہ ہیں جن کے دلوں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت و عشق کی لہریں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کلام اور آپ کی قوت قدسیہ سے پیدا ہوئیں۔اس کے بعد اگر ساری دنیا بھی متفق ہو کر یہ کہتی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کی تو بجز اس کے ہمارا کوئی جواب نہیں ہو سکتا کہ لعنۃ اللہ علی الکاذبین۔اور ہم ہر وقت ہر میدان میں یہ قتسم کھانے کے لئے تیار ہیں کہ خدا تعالیٰ کی شدید سے شدید لعنت ہم پر اور ہمارے بیوی بچوں پر نازل ہو۔اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے شمہ بھر بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کی ہو یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بہتک کو کبھی برداشت کیا ہو یا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا کوئی عاشق اس امت میں پیدا ہوا ہو۔پس اس کے لئے ہمیں کسی قسم کی شرط کی ضرورت نہیں۔لمبی بحثیں کرنے کی حاجت نہیں۔اگر وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حوالے پڑھنا چاہتے ہیں تو ہمیں پچیس منٹ اس کے لئے کافی ہیں اور اتنا وقت انہیں دے دیا جائے گا۔اور اتنے ہی وقت میں ہم جواب دے دیں گے اور اگر وہ زیادہ وقت کی خواہش کریں تو جس قدر مناسب وقت کی ضرورت ہو ان کو دے دیا جائے گا اور اسی قدر وقت میں ہم جواب دے دیں گے۔" حضور کی طرف سے ان کی یہ شرط منظور کر لینے کے بعد بھی احرار میدان میں نہ آئے۔تب حضور نے 15 نومبر تاریخ احمدیت جلد 7 صفحہ 263۔273) 1935 ء کو فر مایا:۔"اگر انہیں اللہ تعالیٰ پر اتنا یقین ہوتا کہ سمجھتے ہم بچے ہیں اور مباہلہ کر سکتے ہیں تو جس طرح میں نے قسم کھا کر مباہلہ کرہی دیا ہے۔یہ لوگ بھی اس طرح کیوں نہ کر دیتے۔وہ اخباروں میں اعلان کر رہے ہیں کہ احمدی مباہلہ سے ڈر گئے۔حالانکہ میں نے پہلے ہی قسم کھائی تھی اور کیا ڈرنے والا پہلے ہی قسم کھا لیا کرتا ہے۔جو الزام وہ لگاتے تھے ان کو مدنظر رکھتے ہوئے اور ان کے مطابق الفاظ میں میں نے قسم شائع کر دی ہے۔تا کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ مباہلہ سے ڈر گئے ہیں۔اسی طرح اگر وہ یقین رکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے آپ کو نعوذ بالله من ذالک رسول کریم