ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 144
144 عزت نہیں یا قادیان سے کم ہے تو تو ہم پر اور ہمارے بیوی بچوں پر عذاب نازل کر۔اس کے مقابلہ میں احرار اٹھیں اور وہ قسم کھا کر کہیں کہ ہمیں یقین ہے کہ احمدی مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے دشمن ہیں۔اور ان مقامات کا گرنا اور ان کی اینٹ سے اینٹ بجائی جانا احمدیوں کو پسند ہے۔پس اے خدا! اگر ہمارا یہ یقین غلط ہے اور احمدی مکہ ومدینہ کی عزت کرنے والے ہیں تو تو ہم پر اور ہمارے بیوی بچوں پر عذاب نازل کر۔وہ اس طریق فیصلہ کی طرف آئیں اور دیکھیں کہ خدا اس معاملہ میں اپنی قدرت کا کیا ہاتھ دکھاتا ہے لیکن اگر وہ اس کے لئے تیار نہ ہوں تو یادرکھیں۔جھوٹ اور افتراء دنیا میں کبھی کامیاب نہیں کر سکتا۔" حضرت مصلح موعودؓ جماعت احمد یہ پر ہتک رسول کے الزام کو کیسے برداشت کر سکتے تھے۔احرار جب مباہلہ کے لئے سامنے نہ آئے اور حیلوں بہانوں سے کام لے کر مختلف شرائط لگانا چاہتے تھے تو حضرت مصلح موعودؓ نے جماعت احمد یہ پر اس بھیا نک الزام کو دھونے کے لئے ان کی یہ شرط بھی قبول کر لی کہ :۔اپنی تقریر مباہلہ میں حضرت مسیح موعود الصلوۃ والسلام کی وہ تحریرات پڑھیں گے جن میں ان کے نزدیک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کی گئی ہے اور پھر قسم کھا کر کہیں گے کہ ان سے اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بہتک ثابت نہیں ہوتی تو ان پر عذاب نازل ہو۔حضور نے اس مطالبہ کی معقولیت کو تسلیم کرتے ہوئے فرمایا:۔"میرے نزدیک یہ بالکل درست بات ہے اور ان کا حق ہے کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس قسم کی تحریریں پڑھیں۔بیس پچیس منٹ میں وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایسی تحریرات پڑھ سکتے ہیں جن سے ان کے خیال میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک ثابت ہوتی ہے۔ہم ہیں پچیس منٹ میں ان تحریروں کا جواب دیں گے یا ایسی تحریریں پڑھ دیں گے جن سے ان کی پیش کردہ تحریروں کی تشریح ہوتی ہو۔پس یہ ان کا حق ہے جسے ہم تسلیم کرتے ہیں وہ انہی تحریرات کو سامنے رکھ کر مگران کے سیاق و سباق کو ساتھ ملا کر موکد بعذاب قسم کھا سکتے ہیں۔مگر یہ ضروری ہے کہ تحریریں صرف حضرت مسیح موعود السلام کی ہوں کسی اور احمدی کی نہ ہوں۔کیونکہ اور احمدیوں سے بعض دفعہ غلطی بھی ہو جاتی ہے اور پھر ان غلطیوں کی اصلاح بھی ہو جاتی ہے لیکن بہر حال دوسروں کی تحریر حجت نہیں ہو سکتی صرف وہی تحریریں پیش ہونی چاہئیں۔جو حضرت مسیح موعود السلام کی ذاتی ہوں۔کیونکہ ان کے متعلق ایک لحظہ کے لئے بھی ہمیں یہ خیال نہیں آسکتا کہ ان میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کی گئی ہے۔ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی باتیں خود اپنے کانوں سے سنیں۔آپ کے طریق عمل کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور آپ کی پاکیزہ زندگی کا روز وشب مشاہدہ کیا۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریرات پڑھی جائیں۔یا نہ پڑھی جائیں۔ہم تو ہر تحریر کو مدنظر رکھتے ہوئے بلکہ حضرت مسیح موعود السلام کے ان خیالات کو مدنظر رکھتے ہوئے جن کو ظاہر ہونے کا موقع نہیں ملا ہر وقت قسم کھانے کے لئے تیار ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تو ہین نہیں