ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 143 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 143

143 ہم اس شخص سے کہتے ہیں لعنۃ اللہ علی الکاذبین۔ہم تو سمجھتے ہیں کہ عرش سے خدا مکہ اور مدینہ کی حفاظت کر رہا ہے۔کوئی انسان ان کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکتا۔ہاں ظاہری طور پر ہو سکتا ہے کہ اگر کوئی دشمن ان مقدس مقامات پر حملہ کرے تو اس وقت انسانی ہاتھ کو بھی حفاظت کے لئے بڑھایا جائے۔لیکن اگر خدانخواستہ کبھی ایسا موقع آئے تو اس وقت دنیا کو معلوم ہو جائے گا کہ حفاظت کے متعلق جو ہماری ذمہ داری خدا تعالیٰ نے انسانوں پر عائد کی ہے اس کے ماتحت جماعت احمدیہ کس طرح سب لوگوں سے زیادہ قربانی کرتی ہے۔ہم ان مقامات کو مقدس ترین مقامات سمجھتے ہیں۔ہم ان مقامات کو خدا تعالیٰ کے جلال کے ظہور کی جگہ سمجھتے ہیں اور ہم اپنی عزیز ترین چیزوں کو ان کی حفاظت کے لئے قربان کرنا سعادت دارین سمجھتے ہیں اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ جو شخص ترچھی نگاہ سے مکہ کی طرف ایک دفعہ بھی دیکھے گا خدا اس شخص کو اندھا کر دے گا اور اگر خدا تعالیٰ نے کبھی یہ کام انسانوں سے لیا تو جو ہاتھ اس بدبین آنکھ کو پھوڑنے کے لئے آگے بڑھیں گے ان میں ہمارا ہاتھ خدا تعالیٰ کے فضل سے سب سے آگے ہوگا۔دوسرا طریق یہ ہے کہ ان مخالفین میں سے وہ علماء جنہوں نے سلسلہ احمدیہ کی کتب کا مطالعہ کیا ہوا ہو پانچ سو یا ہزار میدان میں نکلیں ، ہم میں سے بھی پانچ سو یا ہزار میدان میں نکل آئیں گے۔دونوں مباہلہ کریں اور دعا کریں کہ وہ فریق جو حق پر نہیں خدا تعالیٰ اسے عذاب سے ہلاک کرے۔ہم دعا کریں گے کہ اے خدا تو جو ہمارے سینوں کے رازوں سے واقف ہے۔اگر تو جانتا ہے کہ ہمارے دلوں میں واقعی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت و محبت نہیں اور ہم آپ کو سارے انبیاء سے افضل و برتر یقین نہیں کرتے اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں نجات سمجھتے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک خادم اور غلام نہیں جانتے بلکہ درجہ میں آپ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بلند سمجھتے ہیں۔تو اے خدا! ہمیں اور ہمارے بیوی بچوں کو اس جہان میں ذلیل ورسوا کر اور ہمیں اپنے عذاب سے ہلاک کر۔اس کے مقابلے میں وہ دعا کریں کہ اے خدا ہم کامل یقین رکھتے ہیں کہ احمدی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بہتک کرتے آپ کی تحقیر و تذلیل پر خوش ہوتے اور آپ کے درجہ کو گرانے اور کم کرنے کی ہر وقت کوشش کرتے ہیں۔اے خدا اگر ہمارا یہ یقین غلط ہے تو تو اس دنیا میں ہمیں اور ہمارے بیوی بچوں کو ذلیل ورسوا کر اور اپنے عذاب سے ہمیں بلاک کر یہ مباہلہ ہے جو ہمارے ساتھ کر لیں اور خدا پر معاملہ چھوڑ دیں۔" خانہ کعبہ کی حرمت و عظمت کا فیصلہ کرنے کے لئے بھی حضور نے دعوت مباہلہ دی چنانچہ فرمایا :۔اس کے لئے بھی وہی تجویز پیش کرتا ہوں جو پہلے امر کے متعلق پیش کر چکا ہوں کہ اس قسم کا اعتراض کرنے والے آئیں اور ہم سے مباہلہ کر لیں کہ اے خدا مکہ اور مدینہ کی عظمت ہمارے دلوں میں قادیان سے بھی زیادہ ہے ہم ان مقامات کو مقدس سمجھتے اور ان کی حفاظت کے لئے اپنی ہر چیز قربان کرنے کے لئے تیار ہیں۔لیکن اے خدا! اگر ہم دل سے یہ نہ کہتے ہوں بلکہ جھوٹ اور منافقت سے کام لے کر کہتے ہوں اور ہمارا اصل عقیدہ یہ ہو کہ مکہ اور مدینہ کی کوئی