ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 142 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 142

142 ہتک کرتے ہوں گے۔۔۔۔۔۔پس میں کہتا ہوں تصفیہ کا آسان طریق یہ ہے کہ ہندوؤں ،سکھوں اور عیسائیوں میں سے ایک ہزار آدمی چنا جائے اور وہ موکد بعذاب حلف اٹھا کر بتائیں کہ احمدی عام مسلمانوں سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و عظمت کے متعلق زیادہ جوش رکھتے ہیں یا کم۔اگر ایک ہزار سارے کا سارا اس کا بیشتر حصہ۔کیونکہ ایک دو جھوٹ بھی بول سکتے ہیں۔یہ گواہی دے کہ اس نے احمدیوں کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کرنے والا اور آپ کے نام کو دنیا میں بلند کرنے والا پایا تو اس قسم کا اعتراض کرنے والوں کو اپنے فعل پر شرمانا چاہئے۔میں سمجھتا ہوں وہ لوگ جو ہمارے متعلق یہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کرتے ہیں وہ بار بار ہمارے متعلق اس اتہام کو ہرا کر خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کرتے ہیں۔کیونکہ کسی کو گالی دینے کا ایک طریق یہ بھی ہوا کرتا ہے کہ دوسرے کی طرف گالی منسوب کر کے اس کا ذکر کیا جائے۔۔۔۔پس اگر یہ تصفیہ کا طریق جو میں نے بیان کیا ہے۔اس پر مخالف عمل نہ کریں تو میں کہوں گا ایسے اعتراض کرنے والے در حقیقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خود ہتک کرتے ہیں گو اپنے منہ سے نہیں بلکہ ہماری طرف ایک غلط بات منسوب کر کے۔" جہاں تک مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی نسبت احمدیوں کے عقیدہ کا تعلق ہے حضور نے واضح لفظوں میں اعلان فرمایا کہ : خانہ کعبہ کی اینٹ سے اینٹ بجانا تو الگ رہی ہم تو یہ بھی پسند نہیں کر سکتے کہ خانہ کعبہ کی کسی اینٹ کو کوئی شخص بدنیتی سے اپنی انگلی بھی لگائے اور ہمارے مکانات کھڑے رہیں۔۔۔بیشک ہمیں قادیان محبوب ہے اور بے شک ہم قادیان کی حفاظت کے لئے ہر ممکن قربانی کرنے کے لئے تیار ہیں مگر خدا شاہد ہے خانہ کعبہ ہمیں قادیان سے بدر جہاز یادہ محبوب ہے۔ہم اللہ تعالیٰ سے اس کی پناہ چاہتے ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ خدا وہ دن نہیں لاسکتا۔لیکن اگر خدانخواستہ کبھی وہ دن آئے کہ خانہ کعبہ بھی خطرہ میں ہوا اور قادیان بھی خطرہ میں ہوا اور دونوں میں سے ایک کو بچایا جا سکتا ہو تو ہم ایک منٹ بھی اس مسئلہ پر غور نہیں کریں گے کہ کس کو بچایا جائے بلکہ بغیر سوچے کہہ دیں گے کہ خانہ کعبہ کو بچانا ہمارا اولین فرض ہے۔پس قادیان کو ہمیں خدا تعالیٰ کے حوالہ کر دینا چاہئے۔ہم سمجھتے ہیں کہ مکہ وہ مقدس مقام ہے جس میں وہ گھر ہے جسے خدا نے اپنا گھر قرار دیا اور مدینہ وہ بابرکت مقام ہے جس میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری گھر بنا جس کی گلیوں میں آپ چلے پھرے اور جس کی مسجد میں اس مقدس نبی نے جو سب نبیوں سے کامل نبی تھا اور سب نبیوں سے زیادہ خدا کا محبوب تھا۔نمازیں پڑھیں اور اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں کیں اور قادیان وہ مقدس مقام ہے جس میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات مقدسہ کا خدا تعالیٰ نے دوبارہ حضرت مرزا صاحب کی صورت میں نزول کیا۔یہ مقدس ہے باقی سب دنیا سے مگر تابع ہے مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے۔پس وہ شخص جو یہ کہتا ہے کہ اگر خانہ کعبہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی جائے تو احمدی خوش ہوں گے وہ جھوٹ بولتا ہے وہ افتراء کرتا ہے اور وہ ظلم اور تعدی سے کام لے کر ہماری طرف وہ بات منسوب کرتا ہے جو عقائد میں داخل نہیں اور