ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 141 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 141

141 احرار کی طرف سے ہتک رسول کے الزام کے جواب میں جوابی کارروائی اور مباہلہ کا چیلنج جماعت احمدیہ کے آغاز سے ہی احرار نے جماعت کی مخالفت کا بیڑہ اٹھا رکھا ہے۔آغاز پر اس کی مخالفت عمومی رہی اور جماعت احمدیہ کے عقائد و تعلیمات پر اعتراض کر کے مسلمانوں کو احمدیت کے خلاف اکٹھا کرنے کی کوشش میں رہے۔لیکن جب مسلمانوں نے ان کی آواز پر کان نہ دھرے تو انہوں نے مسلمانوں کو یہ کہہ کر اشتعال دلانے اور جماعت کی مخالفت میں ابھارنے کی کوششیں شروع کر دیں کہ :۔اول۔یہ کہ احمدی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کرتے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے درجہ کو بانی سلسلہ احمدیہ کے درجہ سے (نعوذ باللہ ) ادنی سمجھتے ہیں۔دوم۔یہ کہ احمدیوں کے نزدیک قادیان کی بستی مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سے افضل ہے۔چنانچہ شیخ حسام الدین صاحب نے منصوری میں مولوی عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری کی صدارت میں تقریر کرتے ہوئے کہا:۔اگر خانہ کعبہ کی اینٹ سے اینٹ بجادی جائے تو مرزائی لوگ اس کی کوئی پروانہ کریں گے۔بلکہ خوش ہوں گے۔حضرت مصلح موعوددؓ کا پر شوکت جواب سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے ان الزامات کے جواب میں 30 اگست 1935 ء کو ایک پر جلال خطبہ جمعہ دیا جس میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے جماعت احمدیہ کی محبت و شیدائیت کا واضح ثبوت دیتے ہوئے فرمایا:۔" ہمارے عقائد بالکل واضح ہیں اور ہماری کتابیں بھی چھپی ہوئی موجود ہیں ان کو پڑھ کر کون ہے جو یہ کہہ سکے کہ ہم نعوذ بالله من ذالك رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کرتے ہیں ہاں دشمن یہ کہہ سکتا ہے کہ گوالفاظ میں یہ لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کرتے ہیں مگر ان کے دلوں میں آپ کا ادب نہیں۔مگر اس صورت میں ہمارا یہ پوچھنے کا حق ہو گا کہ وہ کون سے ذرائع ہیں جن سے کام لے کر انہوں نے ہمارے دلوں کو پھاڑ کر دیکھ لیا اور معلوم کر لیا کہ ان میں حقیقتاً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم۔۔۔۔۔۔کی ہتک کے جذبات ہیں۔۔۔۔۔اگر احمدی بالفرض عام مسلمانوں کے سامنے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بہتک کرنے سے اس خیال سے بچتے ہیں کہ اس طرح مسلمان ناراض ہو جائیں گے تو ہندوؤں، سکھوں اور عیسائیوں کے سامنے تو وہ نڈر ہوکر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نعوذ باللہ