ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 140
140 شور پڑ گیا تھا اور بیسیوں اخباروں اور رسالوں نے ان خبروں کو شائع کیا تھا۔اب بھی اس طرح اس کتاب کے مصنف کو مباہلہ کا چیلنج دیا جائے تو ملک میں پھر زندگی پیدا ہو جائے گی۔اور وَ اللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ کی صداقت کا ایک اور ثبوت مل جائے گا۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حفاظت کا وعدہ کیا ہوا ہے اس لئے عیسائیوں سے کہو کہ ہم قرآن کریم کا یہ دعویٰ تمہارے سامنے پیش کرتے ہیں۔تم پہلے ہم سے مباحثہ کر لو اور اپنے اعتراضات پیش کرو ہم ان باتوں کا رد کریں گے اور بتائیں گے کہ ان سے بھی بدتر با تیں تمہارے ہاں موجود ہیں۔پھر تم ان کا جواب دے لینا اور اگر مباحثہ کے بعد بھی تم اپنے دعوئی پر قائم رہو تو ہم سے مباہلہ کر لو۔خدا تعالیٰ خود جھوٹے کو تباہ کر دے گا اور دوسرے فریق کی سچائی کو ظاہر کر دے گا۔یہ طریق ایسا ہے کہ اس سے امریکہ اور ہندوؤں دونوں پر اسلام کا رعب قائم ہو جائے گا۔ہندوؤں کو اس الزامی جواب دینے کے لئے میں نے اس لئے کہا ہے کہ انہوں نے اس امریکن کی کتاب کو شائع کیا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص دوسرے کو تیر مارے اور وہ تیرا سے زخمی نہ کرے لیکن ایک دوسرا آدمی جو تیر اٹھا لائے اور اسے دوسرے کے سینہ میں پیوست کر دے تو زیادہ ظالم وہ ہے جس نے گرا ہوا تیر اٹھایا اور دوسرے کے سینہ میں چھو دیا۔یہ کتاب بھی ، امریکہ کی کتاب تو امریکہ کے کسی عیسائی نے شائع کی تھی مگر امریکہ میں رہ گئی ہندوؤں نے اس کا ترجمہ کر کے مسلمانوں تک پہنچایا اور اس طرح ان کی تکلیف کا موجب ہوئے۔پس یہ گالیاں ہندوؤں نے مسلمانوں تک پہنچا کر اپنے ذمہ لے لی ہیں۔اس لئے ضروری ہے کہ اس کتاب کے ایک ایڈیشن میں جو ہندوستان میں شائع ہو، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دفاع کے ساتھ ساتھ ہندو مذہب کے پول بھی کھولے جائیں اور دوسرے ایڈیشن میں دفاع کے ساتھ ساتھ عیسائیت کے پول کھولے جائیں کیونکہ اس کتاب کا اصل مصنف عیسائی ہے۔اس کے بعد اس کتاب کے لکھنے والوں اور شائع کرنے والوں کو چیلنج کیا جائے کہ وہ ہمارے ساتھ بحث کر لیں۔اور اس کے بعد اگر ان میں طاقت ہو تو ہم سے مباہلہ کر لیں تا کہ خدا تعالیٰ کی طاقت انہیں نظر آجائے اگر یہ طریق اختیار کیا جائے تو میں سمجھتا ہوں کہ یورپ، امریکہ اور ہندوستان متینوں کے لئے یہ طریق ہدایت کا موجب ہوگا۔ہندوستان بے شک آزاد ہو گیا ہے مگر اب بھی وہ یورپ کی طرف میلان رکھتا ہے۔اگر یورپ اور امریکہ میں شور مچ گیا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کرنے والوں کو احمد یوں نے خوب لتاڑا ہے اور انہیں مباحثہ اور مباہلہ کا چیلنج دیا ہے تو ہندوستان کے اخبارات بھی شور مچانے لگ جائیں گے اور وہ بھی وہی باتیں شائع کرنے لگ جائیں گے جو یورپ اور امریکہ کے اخبارات میں شائع ہورہی ہوں گی۔اور اس سے ہندوؤں کے کان کھڑے ہو جائیں گے اور وہ سمجھ لیں گے کہ احمدی پیچھا نہیں چھوڑا کرتے۔اگر ان کے رسول پر حملہ کیا گیا تو اس وقت تک حملہ کرنے والوں کو نہیں چھوڑتے جب تک انہیں گھر نہ پہنچا لیں۔اس طرح آئندہ کے لئے وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کرنے اور مسلمانوں پر حملہ کرنے میں احتیاط سے کام لیں گے۔" تاریخ احمدیت جلد 19 صفحہ 213 216)