ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 139
139 میں شائع کیا جائے تو ہندو بھی ڈر جائیں گے اور وہ آئندہ مسلمانوں پر حملہ نہیں کریں گے اور سمجھ لیں گے کہ اگر انہوں نے مسلمانوں کی طرف کنکر پھینکا تو اس کے جواب میں پتھر پڑے گا۔اس سے نہ صرف ہندوستانی مسلمان خوش ہو جائیں گے بلکہ قرآنی آیت وَ اللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاس کی صداقت بھی واضح ہو جائے گی۔اخبارات سے پتہ لگتا ہے کہ جب سعودی عرب کے بادشاہ سے پنڈت نہرو ملنے گئے اور اس کتاب کے متعلق باتیں ہوئیں تو انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ آئندہ ایسا اقدام کریں گے کہ اس قسم کی کوئی دل آزار کتاب شائع نہ ہو۔لیکن مجھے یقین نہیں کہ پنڈت نہرو اپنے وعدہ پر عمل کریں وہ صرف سعودی عرب کے بادشاہ کو خوش کرنے کے لئے یہ باتیں کہہ آئے ہیں ، کیونکہ خواہ پنڈت نہرو کے دل میں نیکی ہو ان کے اردگرد جو لوگ ہیں وہ کٹر ہندو ہیں انہوں نے اپنے وعدے کے مطابق کوئی عمل کیا تو ان کے ساتھیوں نے شور مچا دینا ہے کہ تم کون ہو جو ہمیں اس بات سے روکتے ہو۔پس میرے نزدیک اصل طریق یہ ہے کہ چونکہ اس کتاب کا مصنف عیسائی ہے اور امریکہ کا رہنے والا ہے اس لئے اس کے جواب میں جو کتاب لکھی جائے اس کا ایک ایڈیشن انگریزی میں ہو جو امریکہ میں شائع کیا جائے۔اس میں ایک طرف تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع ہو یعنی ان اعتراضات کا جواب ہو جو اس کتاب میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کئے گئے ہیں اور دوسری طرف عیسائیوں کو الزامی جواب دیا جائے۔اور پھر اس کا دوسرا ایڈیشن ہندوستان میں شائع کیا جائے۔اس میں ایک طرف تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع ہو یعنی ان اعتراضات کا جواب ہو جو آپ کی ذات پر اس کتاب میں کئے گئے ہیں اور دوسری طرف ہندو مذہب کو مد نظر رکھتے ہوئے الزامی جواب ہو، تا ہندوؤں کو بھی ہوش ہو جائے اور آئندہ وہ مسلمانوں کے جذبات سے کھیلنے میں احتیاط سے کام لیں۔پھر اگر اس کتاب کا مصنف زندہ ہو ممکن ہے وہ مر گیا ہو کیونکہ اس کتاب کو شائع ہوئے 29 سال کا عرصہ گزر چکا ہے ) تو ہمارے مبلغ اُسے مباہلہ کا چیلنج دیں اور کہیں کہ اگر وہ سچا ہے اور عیسائی اس کے ساتھ ہیں تو وہ پچاس عیسائی اپنے ساتھ لے آئے ہم بھی اپنے پچاس نومسلم لے آتے ہیں اور پھر وہ ہم سے مباہلہ کرے۔اگر حضرت عیسی علیہ السلام میں طاقت ہوئی تو وہ انہیں بچالیں گے اور اگر ہمارے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بھیجنے والے خدا میں طاقت ہوئی تو وہ انہیں تباہ کر دے گا۔اس مباہلہ کے بعد جب عیسائیوں پر خدائی عذاب نازل ہوا تو ثابت ہو جائے گا کہ حضرت عیسی علیہ السلام میں کوئی خدائی طاقت نہیں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجنے والا خدا اب بھی زندہ ہے گو آپ کی وفات پر 1300 سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے مگر وہ اب بھی آپ کی حفاظت کرتا ہے۔اور اگر وہ لوگ مباہلہ کے لئے نہ آئیں تو جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ڈوئی کے متعلق پرو پیگنڈا کیا تھا۔اس کے متعلق بھی ملک بھر میں پروپیگنڈا کیا جائے ، اسلام کی عظمت ظاہر ہوگی اور لوگوں پر واضح ہو جائے گا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر حملہ کرنے والے جھوٹے ہیں۔مباہلہ کا ہتھیار عیسائیت میں موجود نہیں لیکن اسلام میں موجود ہے اور اس موقع پر اس سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ڈوئی کے اعلان کی وجہ سے امریکہ بھر میں