ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 138
138 کتاب "مذہبی رہنماؤں کی سوانح عمریاں" کی اشاعت پر حضرت مصلح موعودؓ کی بر وقت رہنمائی نیویارک کی ایک فرم نے "مذہبی رہنماؤں کی سوانح عمریاں " کے نام سے ایک کتاب شائع کی۔ہندوستان میں اس کا اردو تر جمہ بھارت کے ایک صوبہ کے گورنر مسٹر منشی بمبئی نے کیا۔ترجمہ کی اشاعت پر معلوم ہوا کہ اس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کی گئی ہے۔جس پر بھارت میں زبر دست شورش ہوئی اور سخت فساد برپا ہوا۔سینکڑوں مسلمان شہید کر دیئے گئے اور ہزاروں کو جیل خانوں میں ڈال دیا گیا جن کے خلاف عرصہ تک مقدمے چلتے رہے اور ان کو گرفتاریوں کی سزا بھگتنا پڑی۔یہ شورش دیکھ کر پہلے پاکستانی گورنمنٹ نے اور بعد ازاں ہندوستانی گورنمنٹ نے بھی یہ کتاب ضبط کر لی۔اس پر حضرت مصلح موعود نے 5 اکتوبر 1956 ء کو ایک پُر جلال خطبہ دیا اور فرمایا کہ یہ ضبط کرنے والا طریق ٹھیک نہیں۔تب تو ان لوگوں کے دلوں میں شبہ پیدا ہوگا کہ ہماری باتوں کا جواب کوئی نہیں۔واقعہ میں معاذ اللہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے ہی ہوں گے۔تبھی تو کتاب ضبط کرتے ہیں اس کا جواب نہیں دیتے۔اصل طریق یہ تھا کہ اس کا جواب امریکہ میں اور اس کا ترجمہ ہندوستان میں شائع کیا جاتا۔چنانچہ حضور نے فرمایا۔" کہا جاتا ہے کہ ہندو مسلمانوں کے احتجاج کے جواب میں یہ کہتے ہیں کہ یہ کتاب تو 29 سال ہوئے امریکہ میں چھپی تھی۔گویا اس کتاب کا لکھنے والا کوئی عیسائی ہے۔ہندو نہیں۔اگر یہ درست ہے تو اس صورت میں زیادہ مناسب یہ ہے کہ اس کتاب کا جواب امریکہ میں شائع کیا جائے اور اس کا ترجمہ ہندوستان میں پھیلایا جائے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اگر تم کوئی ایسی بات دیکھو جو نا پسندیدہ ہو تو اگر تمہارے ہاتھ میں طاقت ہو تو تم اسے ہاتھ سے مٹادو اور اگر تمہارے ہاتھ میں طاقت نہ ہو لیکن تم زبان سے اس کی برائی کا اظہار کر سکتے ہو۔تو زبان سے اس کی برائی ظاہر کرو اور اگر تم میں زبان سے اظہار کرنے کی بھی طاقت نہ ہو تو تم دل ہی میں اسے بُرا سمجھو۔یہ نکتہ بہت لطیف ہے اس کو مد نظر رکھتے ہوئے پاکستان گورنمنٹ چونکہ پر واٹسٹ کر سکتی ہے اس لئے اس کا فرض ہے کہ وہ ہندوستان کی حکومت سے پروٹسٹ کرے کہ اس نے ہمارے آقا کی ہتک کروائی ہے۔اور ہندوستانی مسلمان جو مظلوم ہیں اور وہ اس کے متعلق کوئی آزادانہ کارروائی نہیں کر سکتے۔ان کے متعلق یہ حکم ہے کہ وہ دل میں ہی اس پر بُرا منا ئیں اور چونکہ پاکستانی گورنمنٹ نے اس کتاب کو ضبط کر لیا ہے۔اس لئے پاکستان سے باہر کے مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ اس کتاب کو جواب لکھیں اور اسے امریکہ اور ہندوستان میں شائع کروائیں۔اگر یہ جواب امریکہ میں شائع کیا جائے تو وہاں کے رہنے والے لوگوں کے سامنے بھی کتاب کے مصنف کا جھوٹ ظاہر ہو جائے گا۔پھر اس کا ترجمہ ہندوستان