ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 137 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 137

137 جاتی تھیں جب قرآن مجید نازل ہوا تھا۔پس قرآن مجید وہی باتیں دوسرے مذاہب کی طرف منسوب کرتا ہے جن کے متعلق یا تو ہم نے ثابت کر دیا ہے کہ جس زمانہ میں قرآن مجید نازل ہوا اس وقت یہ باتیں ان مذاہب میں پائی جاتی تھیں اور یا ایسی باتیں دوسرے مذاہب کی طرف منسوب کرتا ہے جن کو وہ لوگ اب بھی مانتے ہیں اور وہ باتیں اسی رنگ میں ان کے اندر پائی جاتی ہیں جس رنگ میں قرآن مجید پیش کرتا ہے۔اسی طرح مخالف قرآن مجید کی کوئی ایک آیت بھی ایسی پیش نہیں کر سکتا جس میں کوئی ایسی بات کہہ کر دوسرے مذاہب پر اعتراض کیا گیا ہو جس کو قرآن مجید خود بھی مانتا ہو بلکہ دیانت داری سے قرآن مجید دوسرے مذاہب کی انہی باتوں پر اعتراض کرتا ہے جن کو خود نہیں مانتا۔پس یہ دو اصول مدنظر رکھتے ہوئے اگر عام مقررہ قانون کے ماتحت گورنمنٹ ضبطی کا حکم لگاتی تو آریہ سماج کوئی وجہ شور پیدا کرنے کا نہ پاسکتی اور یہ اینٹی قرآن ایجی ٹیشن کا ڈھکوسلہ چل ہی نہ سکتا۔تاریخ احمدیت جلد 9 صفحہ 238-239 ) ستیارتھ پرکاش میں دیگر مذاہب کے بانیوں کے متعلق بے حرمتی پر آپ کا اقدام پھر آپ نے اس مجلس عرفان میں نہایت ہی پیارا اور اچھوتا یہ نکتہ بھی بیان فرمایا کہ اسلام کے خلاف چودھواں باب ہی کیوں ضبط کیا گیا ہے۔باقی ابواب جن میں ہندو مذہب، عیسائی مذہب ، سکھ مذہب اور جین مذہب کے خلاف باتیں بیان ہوئی ہیں ان کی ضبطی کیوں نہیں اور یوں آپ نے حقیقی اسلام کی تعلیم کا حسین نقشہ بیان فرمایا۔آپ فرماتے ہیں :۔نیز یہ امر بھی قابل غور ہے کہ وہی حصہ ستیارتھ پرکاش کا ضبط نہ ہونا چاہئے تھا جو اسلام کے خلاف ہے بلکہ وہ حصہ بھی ضبط ہونا چاہئے تھا جو عیسائیت کے خلاف ہے، جو ہندو مذہب کے خلاف ہے، جو جین مذہب کے خلاف ہے، جو سکھ مذہب کے خلاف ہے۔کیونکہ ستیارتھ پر کاش میں ان مذاہب کی طرف بھی وہ باتیں منسوب کی گئی ہیں جوان میں نہیں پائی جاتیں یا جو خود آریہ سماج کے مسلمات میں بھی ہیں۔اگر دل دکھنا ضبطی کی دلیل ہے تو کیا سکھ کا دل نہیں دکھتا؟ کیا عیسائیوں کے جذبات کو ٹھیس نہیں پہنچتی ؟ جس طرح مسلمانوں کا دل دکھتا ہے اسی طرح سکھوں کا دل بھی دکھتا ہے۔اسی طرح عیسائیوں کا دل بھی رکھتا ہے۔پس گورنمنٹ کو چاہئے تھا کہ اگر ضبط کرنا تھا تو ایسے سب بابوں کو ضبط کرتی جو دوسرے مذاہب کے بارہ میں ہیں اور ان دو باتوں پر اس کی بنیا د رکھتی محض دکھنے پر بنیاد نہ رکھتی۔" تاریخ احمدیت جلد 9 صفحہ 239-240)