ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 136
136 1944ء کو حکم دیا کہ ستیارتھ پرکاش کی کوئی کتاب اس وقت تک نہ چھاپی جائے جب تک چودھواں باب حذف نہ کر لیا جائے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے ایک محفل میں 21 نومبر 1944 ء کو اس کتاب سے شدید نفرت و حقارت کا اظہار کرتے ہوئے انگریزی حکومت کو اس لحاظ سے تنقید کا نشانہ بنایا کہ حکومت سندھ نے ایسا قدم اٹھانے میں بہت تاخیر کی ہے۔آپ نے فرمایا:۔"میرے نزدیک ستیارتھ پرکاش اس وقت ہی قابل ضبطی تھی جب وہ شائع کی گئی۔ہم یہ نہیں کہتے کہ اسے ضبط کیوں کیا گیا ہے بلکہ ہم کہتے ہیں کہ اس کے ضبط کرنے میں گورنمنٹ اتنی دیر کیوں خاموش رہی۔پھر جس قانون یعنی ڈیفنس آف انڈیارولز کے ماتحت ستیارتھ پرکاش کے چودھویں باب کو ضبط کیا گیا ہے یہ ایک عارضی قانون ہے۔اس کا نتیجہ صرف یہی ہوگا کہ مسلمانوں اور آریوں میں لڑائی جھگڑا اور شورش تو پیدا ہو جائے گی مگر جب جنگ کے خاتمہ پر ڈیفنس کا قانون منسوخ ہوگا ساتھ ہی ستیارتھ پرکاش کے چودھویں باب کی ضبطی کا حکم بھی منسوخ ہو جائے گا۔پس ایسے قانون کے ماتحت اس کتاب کو ضبط کرنا جو عارضی ہے صرف فساد پیدا کرے گا اور نتیجہ کچھ بھی نہ نکلے گا۔پس اول تو گورنمنٹ کو چاہئے تھا کہ اس کتاب کو اس وقت ضبط کرتی جب یہ شائع کی گئی تھی۔اتنی دیر کیوں کی گئی۔پھر اگر اب ضبط کرنا تھا تو عام قانون کے ماتحت ضبط کرتی اور جس طرح میں نے بتایا ہے کہ گورنمنٹ یہ دلیل دیتی کہ ہم اس وجہ سے کتاب کو ضبط کرتے ہیں کہ اس میں ایسی باتیں دوسرے مذاہب کی طرف منسوب کی گئی ہیں جو ان مذاہب میں نہیں پائی جاتیں اور ایسی باتیں کہہ کر دوسرے مذاہب کا مذاق اڑایا گیا ہے اور اشتعال دلایا گیا ہے جو خود کتاب لکھنے والے کے مذہب میں بھی پائی جاتی ہے۔اگر سندھ گورنمنٹ اس طرح کرتی کہ عام قانون کے ماتحت اس کتاب کو ضبط کرتی اور اس میں یہ دلیل دیتی جو میں نے بیان کی ہے تو آریوں نے جواب اینٹی قرآن تحریک شروع کر رکھی ہے۔یہ تحریک جاری کرنے کی انہیں کبھی جرات نہ ہوتی۔کیونکہ سارے آریہ تو کیا سارے ہندو، سارے جینی ، سارے عیسائی اور سارے یہودی مل کر قرآن مجید کی کوئی ایک آیت تو ایسی دکھا ئیں جس میں قرآن مجید نے کسی مذہب کی طرف کوئی بات منسوب کی ہو اور وہ بات اس مذہب میں نہ پائی جاتی ہو۔قرآن مجید نے عیسائیوں کے متعلق کوئی ایک بات بھی ایسی نہیں کہی جو عیسائیوں میں نہ پائی جاتی ہو۔قرآن مجید نے کوئی ایک بات بھی یہودیوں کے متعلق ایسی نہیں کہی جو یہودیوں میں نہ پائی جاتی ہو۔نہایت دیانت داری سے وہی باتیں ان کی طرف منسوب کی ہیں جو ان کے مذہب میں پائی جاتی ہیں۔بے شک آج کل یہودیوں اور عیسائیوں کی طرف سے یہ کہا جاتا ہے کہ ہماری موجودہ کتابوں میں وہ باتیں نہیں پائی جاتیں جو قرآن مجید ہماری طرف منسوب کرتا ہے لیکن ہم نے ثابت کر دیا ہے کہ اگر یہ باتیں آج کل تمہاری کتب میں نہیں پائی جاتیں تو اس کا قرآن ذمہ دار نہیں کیونکہ تمہاری کتابوں میں تحریف ہو چکی ہے۔یہ باتیں اس وقت تمہاری کتابوں میں پائی