ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 135
135 متعلق ویدوں اور ہندوؤں کی پُرانی کتابوں سے یہ ثابت کیا جائے کہ پنڈت جی کا بیان غلط ہے۔اسی طرح ستیارتھ پر کاش کے ہر باب میں جو کوتاہیاں یا غلطیاں پائی جاتی ہیں۔الف سے لے کری تک ان سب کو واضح کیا جائے۔اسلام پر جو حملے کئے گئے ہیں ان کا بھی ضمنی طور پر جواب آ جانا چاہئے۔اس طرح ستیارتھ پرکاش کے رد میں ایک مکمل کتاب لکھی جائے جو کم سے کم سات آٹھ سو صفحات کی ہو اور جس طرح ستیارتھ پرکاش ایک معیاری کتاب کے طور پر پیش کی جاتی ہے اسی طرح یہ کتاب نہایت محبت سے معیاری رنگ میں لکھی جائے۔بعد میں ہر زبان میں اس کتاب کا ترجمہ کر کے تمام ہندوستان میں پھیلائی جائے۔اس سکیم کے مطابق ستیارتھ پرکاش کے مختلف ابواب جوابات تیار کرنے کے لئے علمائے سلسلہ کے سپرد ہوئے اور چودھویں باب ( جو اسلام کے خلاف گند اور غلاظت سے بھڑا پڑا ہے) کا حضور نے اپنے ذمہ لیا۔حضور نے 2 فروری 1945ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا۔تاریخ جلد 9 صفحہ 230-231) " میں نے ستیارتھ پرکاش کا جواب شائع کرنے کا اعلان کیا تھا۔چنانچہ اس کا جواب قریباً سات آٹھ بابوں کا ہو چکا ہے اور بقیہ تیار ہو رہا ہے۔جو نو جوان اس کام کو کر رہے ہیں مجھے خوشی ہے کہ وہ محنت کے ساتھ کر رہے ہیں اور مجھے اس بات کی بھی خوشی ہے کہ ہماری جماعت میں ایسے نوجوان پیدا ہو رہے ہیں جو ہند ولٹریچر کو اس کی اپنی زبان میں پڑھ کر غور کر سکتے ہیں۔اس کام کے لئے میں نے مولوی ناصرالدین صاحب عبداللہ اور مہاشہ محمد عمر صاحب اور مہاشہ فضل حسین صاحب کو مقرر کیا ہوا ہے اور یہ تینوں بہت جانفشانی سے اس کام میں لگے ہوئے ہیں اور میں سر دست ایڈیٹنگ کرتا ہوں۔وہ نوٹ لکھ کر مجھے دے دیتے ہیں اور میں جرح کر کے واپس بھیج دیتا ہوں۔پھر وہ اصل مضمون لکھ کر بھیج دیتے ہیں اور میں اسے دیکھ لیتا ہوں۔اس میں میرا اپنا کام صرف اتنا ہی ہے کہ جو دلائل کمزور ہوں ان کی طرف انہیں توجہ دلا دیتا ہوں کہ یہ یہ دلائل کمزور ہیں یا تمہارا یہ اعتراض ان معنوں پر پڑتا ہے اور ان معنوں پر نہیں پڑتا یا یہ کہ بعض دفعہ ان کی عبارتوں میں جوش ہوتا ہے کیونکہ ستیارتھ پر کاش میں سخت سخت حملے کئے گئے ہیں۔اس لئے اس کا جواب دیتے وقت جذبات کو روکنا مشکل ہوتا ہے۔اس لئے میں اس بات کی بھی نگرانی کرتا ہوں کہ ایسے سخت الفاظ استعمال نہ کئے جائیں جن سے کسی کی دل شکنی ہو۔یا اس بات کو بھی میں مد نظر رکھتا ہوں کہ یہ کتاب آریہ سماج کی ہے۔لیکن ہمارے نو جوان بعض دفعہ نا تجربہ کاری کی وجہ سے اس بات کو بھول کر کہ ہمارے مخاطب تمام ہندو نہیں بلکہ صرف آریہ سماجی ہیں، مضمون زیر بحث میں سناتن دھرم کی بعض باتوں کی بھی تردید شروع کر دیتے ہیں، تو میں اس بات میں بھی اُن کی نگرانی کرتا ہوں کہ وہ صرف آریہ سماج کو ہی مخاطب کریں اور ایسی باتوں کا ذکر نہ کریں جو براہ راست ویدوں یا سناتن دھرم کے لٹریچر کے متعلق ہوں۔جس حد تک میرے پاس مضمون آچکا ہے اور غالباً اکثر آچکا ہے اس کو دیکھ کر میں نے انداز لگایا ہے کہ بہت محنت اور جانفشانی سے لکھا گیا ہے۔" تاریخ احمدیت جلد 9 صفحہ (231) گواس کتاب پر کام تقسیم ملک کی وجہ سے درمیان میں رہ گیا اور مکمل نہ ہوسکا تاہم حکومت سندھ نے نومبر