ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 134 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 134

134 فرمایا جس میں مختلف مذاہب کے نمائندے اپنے اپنے مذہب کے بانی کی سیرت بیان کریں چنانچہ اس سلسلہ میں پہلا جلسہ 3 دسمبر 1939 ء کو منعقد ہوا۔جس میں غیر مسلم معززین نے شمولیت کر کے اپنے بزرگ رہنماؤں کی سیرت بیان کی۔اور حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کو بھی جماعت احمدیہ کی طرف سے اپنے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت بیان کرنے کا موقع میسر آیا۔ان جلسوں کا سلسلہ جاری رہا حتی کہ 1992ء میں قادیان جلسہ سالانہ کے اختتامی اجلاس سے حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے آپس کی نفرتیں دور کرنے کے لئے ان اہم جلسوں کو دوبارہ کثرت سے منعقد کرنے کی تحریک فرمائی تا مذاہب میں آپس میں محبت بڑھے۔ایک دوسرے کے قریب آئیں اور ایک دوسرے کے بانیان کا احترام کرنا سیکھیں۔(الفضل 3 فروری 1993ء) اب یہ سلسلہ بین الاقوامی صورت اختیار کر گیا ہے اور آج ساری دنیا میں پیشوایان مذاہب کے جلسے منعقد ہوتے ہیں اور اسلام کی حسین تعلیم ، سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے آئینہ میں بیان ہوتی ہے۔ستیارتھ پرکاش کے مکمل جواب کی تجویز 1944ء میں سیدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے آریہ سماج کے بانی دیانند سرسوتی کی کتاب ستیارتھ پر کاش کا مکمل جواب شائع کرنے کا فیصلہ فرمایا۔اس سکیم کا اظہار آپ نے 2 مئی 1944ء کو مجلس عرفان میں مکرم ملک فضل حسین صاحب کو مخاطب ہو کر یوں فرمایا :۔"میرے دل میں تحریک پیدا ہوئی ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ "ستیارتھ پرکاش " کا مکمل جواب لکھا جائے۔اس وقت تک اس کے جس قدر جواب دیئے گئے ہیں وہ سب دفاعی رنگ رکھتے ہیں۔زیادہ تر لوگوں نے "ستیارتھ پر کاش" کے چودھویں باب کو اپنے سامنے رکھا ہے اور اسی کا جواب دینے کی کوشش کی ہے۔ضرورت ہے کہ ستیارتھ پر کاش کے پہلے باب سے شروع کر کے آخر تک مکمل جواب لکھا جائے اور اس جواب میں صرف دفاعی رنگ نہ ہو بلکہ دشمن پر حملہ بھی کیا جائے۔کیونکہ دشمن اس وقت تک شرارت سے باز نہیں آتا جب تک اس کے گھر پر حملہ نہ کیا جائے۔اس کا ایک طریق تو یہ ہے کہ ستیارتھ پرکاش کے جتنے نسخے شروع سے لے کر اب تک چھپے ہیں ان سب کو جمع کیا جائے اور پھر ان نسخوں میں جو جو اختلافات ہیں یا جہاں جہاں آریوں نے ستیارتھ پر کاش میں تبدیلیاں کی ہیں وہ سب اختلافات واضح کئے جائیں اور کتاب کا ایک باب اس غرض کے لئے مخصوص کر دیا جائے۔گویا ایک باب ایسا ہو جس کا عنوان مثلاً یہی ہو کہ "ستیارتھ پر کاش میں تبدیلیاں " اور پھر بحث کی جائے کہ آریوں نے اس میں کیا کیا تبدیلیاں کی ہیں۔پھر جہاں جہاں وہ بہانے بناتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کاتب کی غلطی سے ایسا ہو گیا وہاں بھی بحث کر کے واضح کیا جائے کہ یہ کتابت کی غلطی ہو ہی نہیں سکتی۔پھر پنڈت دیا نند نے علمی طور پر ہندو کے متعلق جو باتیں لکھی ہیں ان کے