ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 133 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 133

1929ء کو جلسہ ہائے سیرۃ النبی 133 1929ء کو بھی اس طریق پر جلسے منعقد کرنے کی درخواست کی گئی ، تقاریر کے عناوین تبدیل کر دیئے جو یہ تھے۔1۔رسول کریم کا غیر مذاہب سے معاملہ بلحاظ تعلیم وتعامل 2۔تو حید باری تعالیٰ کے متعلق رسول کریم کی تعلیم سیرت النبی جلسوں کی غرض وغایت ایک اشتہار "دنیا کے محسن" کے نام سے جاری ہوا۔جس میں ان جلسوں کی غرض و غایت یوں بیان ہوئی۔ان جلسوں کی غرض و غایت یہ ہے کہ لیکچروں اور خوش آئندہ تقریروں کے ذریعہ لاکھوں ان پڑھ یا غفلت اور ستی کی وجہ سے خود مطالعہ سے معذور مسلمان اس دن تھوڑا سا وقت صرف کر کے رسول کریم کی ذات والا صفات کے متعلق کافی واقفیت حاصل کرلیں گے۔اور ضمنا غیر مسلم صاحبان پر جب آنحضرت کے صحیح حالات واضح ہوں گے تو سلیم الفطرت اور شریف الطبع اصحاب اپنے ایسے ہم مذہبوں کو جو تعصب سے اندھے ہورہے ہیں گالیاں دینے سے روکیں گے۔اسی طرح بعض مفسد جو رسول کریم کی شان میں خلاف واقعہ اور گندے مضامین لکھ لکھ کر آئے دن ملک کا امن برباد کر رہے ہیں۔اپنے کئے پر پشیمان ہو کر آئندہ کے لئے اصلاح پا جائیں گے۔اور ہندو مسلم اتحاد کے راستہ سے جس کے بغیر ملک کی ترقی سراسر محال ہے، ایک بڑی رکاوٹ دور ہو جائے گی۔(تاریخ احمدیت جلد 5 صفحہ 47-48) 1927ء سے شروع ہونے والے سیرۃ النبی کے جلسوں کا سلسلہ جاری رہا اور ہر سال میں بڑی شان وشوکت سے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و سوانح پر مختلف مقامات پر عظیم الشان جلسے ہوتے رہے۔جیسے 1930ء میں اندرون و بیرون ملک پر شوکت جلسے منعقد ہوئے اور 26 اکتوبر 1930ء کو خود حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے قادیان میں عرفان الہی اور محبت باللہ کے عالی مرتبہ پر پُر معارف تقریر فرمائی۔جس پر رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کو قائم کرنا چاہتے تھے۔اور 8 نومبر 1931ء کو بریڈ لا ہال میں حضور نے لَقَدْ جَاءَ كُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ کی نہایت ہی لطیف تفسیر کرتے ہوئے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پانچ ایسی خوصیات بیان فرمائیں جن میں آپ منفر دو یکتا تھے۔ان ہر دوسالوں میں الفضل خاتم النبین نمبر بھی شائع ہوئے۔اب یہ سلسلہ الحمد للہ ساری دنیا میں پھیل چکا ہے اور ہر چھوٹی اور بڑی سطح پر جلسہ ہائے سیرۃ النبی منعقد ہوتے ہیں۔یوم پیشوایان مذاہب حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے سیرۃ النبی کے مبارک جلسوں کی بنیاد کے بعد 1939ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک دیرینہ خواہش کو مد نظر رکھ کر سال میں ایک دن کو پیشوایان مذاہب کے طور پر منانے کا اعلان