ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 132 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 132

132 سبق آموز تعلیم پر ہندو مسلمان اور سکھ اپنے اپنے خیالات کا اظہار کررہے تھے۔اگر اس قسم کے لیکچروں کا سلسلہ برابر جاری رکھا جائے تو مذہبی تنازعات وفسادات کا فوراً انسداد ہو جائے۔17 جون کی شام صاحبان بصیرت و بصارت کے لئے اتحاد بین الاقوام کا بنیادی پتھر تھی ہندو اور سکھ مسلمانوں کے پیارے نبی کے اخلاق بیان کر کے ان کو ایک عظیم الشان ہستی اور کامل انسان ثابت کر رہے تھے۔بلکہ بعض ہندو لیکچرار تو بعض منہ پھٹ معترضین کے اعتراضات کا جواب بھی بدلائل قاطع دے رہے تھے۔آریہ صاحبان عام طور پر نفاق و فساد کے بانی بتائے جاتے ہیں اور سب سے زیادہ یہ گر وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس زندگی پر اعتراض کیا کرتا ہے۔لیکن 17 جون کی شام کو پانی پت، انبالہ اور بعض اور مقامات میں چند ایک آریہ اصحاب نے ہی حضور کی پاک زندگی کے مقدس مقاصد پر دل نشین تقریریں کر کے بتا دیا کہ اس فرقہ میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو دوسرے مذاہب کے بزرگوں کا ادب و احترام اور ان کی تعلیمات کے فوائد کا اعتراف کر کے اپنی بے تعصبی اور امن پسندی کا ثبوت دے سکتے ہیں۔(الفضل 10 جولائی 1928ء) اردو اخبار " ناگپور ( 5 جولائی 1927 ء) نے " جماعت احمدیہ کی قابل قدر خدمات" کی سرخی دے کر مندرجہ ذیل نوٹ لکھا۔"جماعت احمد یہ ایک عرصہ سے جس سرگرمی سے اسلامی خدمات بجالا رہی ہے وہ اپنے زریں کارناموں کی بدولت محتاج بیان نہیں ہے۔یورپ کے اکثر ممالک میں جس عمدگی کے ساتھ اس نے تبلیغی خدمات انجام دیں اور دے رہی ہے بیچ یہ ہے کہ یہ اسی کا کام ہے۔پچھلے دنوں جبکہ یکا یک شدھی کا ایک طوفان عظیم امنڈ آیا تھا۔اور جس نے ایک دو آدمیوں کو نہیں بلکہ گاؤں کے گاؤں مسلمانوں کو متاثر بنا کر مرتد کر لیا تھا۔یہی ایک جماعت تھی جس نے سب سے پہلے سینہ سپر ہو کر اس کا مقابلہ کیا اور وہ کچھ خدمات انجام دیں اور کامیابی حاصل کی کہ دشمنان اسلام انگشت بدندان رہ گئے۔اور ان کے بڑھے ہوئے حوصلے پست ہو گئے۔یہ مبالغہ نہیں بلکہ واقع ہے کہ جس ایثار و انہماک سے یہ مختصرسی جماعت اسلام کی خدمت انجام دے رہی ہے وہ اپنی نظیر آپ ہے اور بلا شبہ اس کے یہ تمام کارنامے تاریخی صفحات پر آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں۔پچھلے دنوں اس کی یہ تحریک کہ حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر 17 جون کو ہندوستان کے ہر مقام پر عام مجمع میں جس میں مسلم و غیر مسلم دونوں شامل ہوں تقریریں کی جائیں اور جس کے لئے اس نے صرف تحریک ہی پیش نہیں کی بلکہ صد ہا روپے بھی خرچ کر کے مقررین کے لئے ہزار ہا کی تعداد میں لیکچر طبع کرا کر مفت تقسیم کئے۔اور جس کا اثر یہ ہوا کہ 17 جون کو مسلم اور غیر مسلم دونوں جماعتوں نے شاندار جلسے کر کے سیرت نبوی پر کمال حسن و خوبی سے اظہار خیالات کئے ہمارا تو خیال ہے کہ اگر اس تحریک پر آئندہ بھی برابر عمل کیا گیا تو یقینا وہ ناپاک حملے جو آج برابر غیر مسلم اقوام ذات فخر موجودات پر کرتی رہتی ہیں۔ہمیشہ کے لئے مٹ جائیں گے اور وہ ناگوار واقعات جو آئے دن پیش آتے رہتے ہیں اس مبارک تحریک کی بدولت نیست و نابود ہو جائیں گے" (الفضل 17 جولائی 1928 )