ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 131
131 جلسوں کی کامیابی پر تبصرے مجالس سیرت النبی کی کامیابی ایسے شاندار رنگ میں ہوئی کہ بڑے بڑے لیڈر دنگ رہ گئے اور اخباروں نے اس پر بڑے عمدہ تبصرے شائع کئے۔اور اس کی غیر معمولی کامیابی پر حضرت خلیفتہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ کو مبارکباددی مثلاً اخبار مشرق گورکھپور (21 جون 1928ء) نے لکھا۔ہندوستان میں یہ تاریخ ہمیشہ زندہ رہے گی۔اس لئے کہ اس تاریخ میں اعلیٰ حضرت آقائے دو جہاں سردار کون و مکان محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر خیر کسی نہ کسی پیرایہ میں مسلمانوں کے ہر فرقہ نے کیا اور ہر شہر میں یہ کوشش کی گئی کہ اول درجے پر ہمارا شہر رہے۔۔۔۔۔۔بہر حال 17 جون کو جلسے کی کامیابی پر ہم امام جماعت احمد یہ جناب مرزا محمود احمد کو مبارک باد دیتے ہیں کہ اگر شیعہ وسنی اور احمدی اسی طرح سال بھر میں دو چار مرتبہ ایک جگہ جمع ہو جایا کریں گے تو پھر کوئی قوت اسلام کا مقابلہ اس ملک میں نہیں کر سکتی۔الفضل 29 جون 1928ء) مخبر اودھ نے انسان اعظم حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر شاندار ر" اور "ہندوستان کے جلسے " کے دوہرے عنوان سے ایک مفصل مضمون شائع کیا۔جس میں لکھا۔" دور حاضرہ کے مسلمانوں میں جماعت احمد یہ ایک پُر جوش جماعت ہے جس کے زبر دست لیکچروں کی آواز یورپ سے امریکہ تک گونج رہی ہے اور یہ ہر موقع پر معترضین اسلام کی تسلی کرنے کو آمادہ رہی ہے۔اس طبقہ نے بحث و مباحثہ کے ضمن میں بہترین خدمات انجام دیئے ہیں اور علم کلام میں جو عظیم الشان تبدیلیاں پیدا کی ہیں ان سے کسی انصاف پسند کو انکار نہیں۔کچھ دنوں سے غیر اقوام کے مقررین اور جرائد ورسائل نے یہ طریقہ اختیار کیا ہے کہ وہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اپنے جلسوں میں ایسے حالات بیان کرتے ہیں جس کا مستند تواریخ میں پتہ نہیں اور اپنے اخبارات میں ان غلط روایات پر الٹی سیدھی رائے زنی کرتے ہیں جن سے سیرت نبوی کا لٹریچر نا آشنا ہے۔جماعت احمدیہ نے اس بات کا بیڑہ اٹھایا کہ 17 جون کو ہندوستان کے ہر حصہ میں مسلمانوں کے عام جلسے کئے جائیں۔جن میں آنحضرت کی سیرت مبارک پر شاندار لیکچروں کا سلسلہ شروع ہو۔اور اس میں نہ صرف ہر فرقہ اسلامیہ کے ممتاز افراد شریک ہوں بلکہ غیر مذاہب کے اشخاص کو بھی دعوت دی جائے۔(الفضل 3 جولائی 1928) اخبار " کشمیری " لا ہور ( 28 جون 1928 ء) نے 17 جون کی شام کے عنوان سے یہ تبصرہ شائع کیا:۔" مرزا بشیر الدین محمود احمد جماعت احمدیہ قادیان کی یہ تجویز کہ 17 جون کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک سیرت پر ہندوستان کے گوشہ گوشہ میں لیکچر اور وعظ کئے جائیں باوجود اختلافات عقائد کے نہ صرف مسلمانوں میں مقبول ہوئی بلکہ بے تعصب امن پسند صلح جو غیر مسلم اصحاب نے 17 جون کے جلسوں میں عملی طور پر حصہ لے کر اپنی پسندیدگی کا اظہار فرمایا۔17 جون کی شام کیسی مبارک شام تھی کہ ہندوستان کے ایک ہزار سے زیادہ مقامات پر بیک وقت و بیک ساعت ہمارے برگزیدہ رسول کی حیات اقدس، ان کی عظمت ، ان کے احسانات و اخلاق اور ان کی