ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 130
130 اس وسیع پروگرام کے لئے جو لائحہ عمل آپ نے تجویز فرمایا 1 اس کے تحت 1928 ء کے جلسوں کے لئے درج ذیل تین عناوین تجویز فرمائے۔ا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بنی نوع انسان کے لئے قربانیاں ii۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پاکیزہ زندگی ii۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا پر احسانات ایک ہزار مقامات پر جلسہ کرنے کے لئے ایک ہزار فدائی مقررین کا مطالبہ جو ایک ہزار مضامین تیار کر سکیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احسانات چونکہ عالمی ہیں اس میں مسلمانوں کے علاوہ دوسرے مذاہب کے لوگ بھی اگر رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں کچھ کہنا چاہیں تو ضرور موقع دیا جائے۔4 جو مضامین آئیں ان میں اول، دوم، سوم پوزیشنز پر آنے والوں کو انعامات دیئے جائیں۔ان جلسوں کے لئے 17 جون کی تاریخ مقرر ہوئی۔اس روز ہندوستان کے طول وعرض میں 1419 مقامات پر جلسے ہوئے۔(لیکچراروں کی رہنمائی کے لئے 72 صفحات پر مشتمل الفضل کا خاتم النبین نمبر 7000 کی تعداد میں شائع ہوا ) ایک ہی پیج پر ہر فرقہ کے مسلمانوں نے سیرت رسول پر اپنے دلی جذبات عقیدت کا اظہار کیا۔قادیان کے ممتاز احمدی علماء اور سکالرز مختلف مقامات پر تقاریر کرنے گئے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے بذات خود قادیان کے عظیم الشان جلسہ میں شمولیت فرما کر اڑھائی گھنٹے تک " دنیا کے محسن " کے عنوان پر ایک تقریر دل پذیر فرمائی۔جلسہ ہائے سیرۃ النبی میں مسلمانوں کے علاوہ سیکڑوں معزز مشہور غیر مسلم لیڈروں نے تقریریں کیں اور دنیا کے سب سے بڑے محسن سب سے بڑے پاکباز اور سب سے بڑے ہمدرد کے متعلق اپنی عقیدت واخلاص کا اظہار کیا۔یہ ایک ایسا روح پرور نظارہ تھا جو اس سے قبل دیکھنے کو نہ ملا تھا۔ان جلوس کا ایک بڑا فائدہ یہ ہوا کہ پبلک پر یہ بات کھل گئی کہ ہندوؤں کا ایک بڑا طبقہ بانی اسلام کے خلاف ناپاک لٹریچر کو سخت نفرت کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور بانی اسلام کو دنیا کا بہت بڑا مصلح تسلیم کرتا ہے۔ہندوستان کے علاوہ سماٹرا، آسٹریلیا، سیلون، ماریشس، عراق، ایران ، عرب، دمشق (شام)، حیفا ( فلسطین) گولڈ کوسٹ (غانا) نائیجیریا، جنجہ ، مباسہ ( مشرقی افریقہ ) اور لندن میں بھی سیرت النبی کے جلسے ہوئے۔اس طرح خدا کے فضل سے عالمگیر پلیٹ فارم سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں محبت وعقیدت کے ترانے گائے گئے۔