ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 129 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 129

129 ناموس رسالت کی حفاظت کے لئے جلسہ ہائے سیرۃ النبی کا اجراء تحفظ ناموس رسالت کی تحریک اور بدنام زمانہ کتاب "رنگیلا رسول" اور رسالہ " در تمان" کی زبان درازی پر حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے درج بالا جو ولولہ انگیز اقدام 1927ء میں اٹھائے تھے وہ کوئی معمولی ہستی کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لئے نہ تھے بلکہ اس عظیم ہستی کے جلال و جمال کے اظہار کے لئے تھے جن کے بارہ میں خود اللہ تعالیٰ یوں گویا ہوا۔لَوْلَاكَ لَمَا خَلَقْتُ الأفلاك اس لئے ان مبارک اقدام کا تسلسل نہ صرف 1927ء میں جاری وساری رہا بلکہ 1928ء اور 1929ء میں سیرت النبی کے عالمگیر جلسوں کی صورت میں نقطہ عروج تک پہنچتا ہوا دکھائی دیا۔کیونکہ ہندوؤں کی طرف سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان مبارک کے خلاف گستاخیاں انتہاء کو پہنچ گئیں اور ملک میں فرقہ وارانہ کشیدگی نہایت خطر ناک شکل اختیار کر گئی تو حضور نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس و حرمت کی حفاظت کے لئے نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ انٹرنیشنل سطح پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس زندگی کے حالات اور آپ کے عالمگیر احسانات کے تذکروں کے لئے "سیرت النبی" کے جلسوں کی تجویز فرمائی۔آپ نے فرمایا:۔لوگوں کو آپ پر حملہ کرنے کی جرات اسی لئے ہوتی ہے کہ وہ آپ کی زندگی کے صحیح حالات سے ناواقف ہیں یا اسی لئے کہ وہ سمجھتے ہیں دوسرے لوگ ناواقف ہیں اور اس کا ایک ہی علاج ہے جو یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سوانح پر اس کثرت سے اور اس قدر زور کے ساتھ لیکچر دیئے جائیں کہ ہندوستان کا بچہ بچہ آپ کے حالات زندگی اور آپ کی پاکیزگی سے آگاہ ہو جائے۔اور کسی کو آپ کے متعلق زبان درازی کرنے کی جرات نہ رہے جب کوئی حملہ کرتا ہے تو یہی سمجھ کر کہ دفاع کرنے والا کوئی نہ ہوگا۔واقف کے سامنے اس لئے کوئی حملہ نہیں کرتا کہ وہ دفاع کر دے گا۔پس سارے ہندوستان کے مسلمانوں اور غیر مسلموں کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پاکیزہ زندگی سے واقف کرنا ہمارا فرض ہے اور اس کے لئے بہترین طریق یہی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے اہم شعبوں کو لے لیا جائے۔اور ہر سال خاص انتظام کے ماتحت سارے ہندوستان میں ایک ہی دن ان پر روشنی ڈالی جائے۔تاکہ سارے ملک میں شور مچ جائے اور غافل لوگ بیدار ہو جائیں۔" نیز فرمایا:۔تاریخ احمدیت جلد 5 صفحہ 29-30) "رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر اسی طرح حملے کئے جاتے ہیں ایسے حملوں کے دفاع کا بہترین طریق یہ نہیں ہے کہ ان کا جواب دیا جائے بلکہ یہ ہے کہ ہم لوگوں کو توجہ دلائیں کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات خود پڑھیں اور ان سے صحیح طور پر واقفیت حاصل کریں۔جب وہ آپ کے حالات پڑھیں گے تو انہیں معلوم ہو جائے گا کہ آپ کی ذات نو رہی نور ہے اور اس ذات پر اعتراض کرنے والا خود اندھا ہے۔" (خطبات محمود جلد 11 صفحہ 362)