ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 128
128 ناموس پیشوایان مذاہب کے تحفظ کے لئے نیا قانون حضور نے شملہ میں نہ صرف حکومت کو ملکی اور جدید قانون کی ضرورت کا قائل کرنے کی کوشش کی بلکہ اسمبلی کے مسلمان ممبروں سے تبادلہ خیالات کے علاوہ ہندو لیڈروں سے بھی اپنے مجوزہ مسودہ قانون پر گفتگو فرمائی چنانچہ مسلمانوں کے مشہور لیڈر جناب محمد علی جناح ( قائد اعظم)، مولوی محمد یعقوب صاحب ڈپٹی پریذیڈنٹ اسمبلی، سر عبدالقیوم صاحب، خان محمد نواز خان صاحب، مولوی محمد شفیع صاحب داؤدی اور مولوی محمد عرفان صاحب گا ہے گا ہے آپ کی فرودگاہ پر تشریف لائے اور انہوں نے اس کے تمام پہلوؤں پر گھنٹوں بیٹھ کر تبادلہ خیالات کیا اور آپ کے مسودہ کی نہ صرف تائید کی بلکہ تعریف بھی۔یہ مسودہ شائع ہوا تو ہندوستان ٹائمنر نے اسے نہایت اہم اور ضروری قرار دیا۔حضور کی اس شبانہ روز جد و جہد کا اثر یہ ہوا کہ قیام شملہ کے صرف نو دن بعد حکومت ہند نیا قانون اسمبلی میں پیش کرنے پر رضامند ہوگئی۔چنانچہ 22 اگست 1927ء کو شملہ سے یہ سرکاری اعلان ہوا کہ مذاہب کی توہین یا دوسروں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کے لئے شرانگیز مضامین کی افسوس ناک اشاعت کے پیش نظر حکومت ہند نے موجودہ قانون کی دفعات کو محض اس لئے بنظر امعان ملاحظہ کیا کہ ان میں سے کسی کو قوی بنانے کی ضرورت ہے یا نہیں لیکن قانون پر غور کرنے کے بعد یہ معلوم ہوا کہ اس قسم کی تحریرات تعزیرات ہند کے باب پانزدہم کی گرفت میں نہیں آتی ہیں۔کیونکہ یہ باب محض ان جرائم پر حاوی ہے جو مذاہب سے تعلق رکھتے ہیں۔البتہ یہ ضرور ہے کہ اس قسم کی تمام تحریرات دفعہ 153۔الف تعزیرات ہند کے رو سے قابل مواخذہ ہیں کیونکہ ایسا تو بہت شاذ و نادر ہوتا ہے کہ اس سے دو مختلف جماعتوں کے درمیان نفرت و حقارت کے جذبات کو ترقی دینے کی کوشش کا اظہار نہ ہوتا ہو۔لیکن یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ یہ طریقہ ایسے افعال کو قابل مواخذہ قرار دینے کے لئے ایک ٹیڑھا سا طریقہ ہے جنہیں خود ہی مورد تعزیر ہونا چاہئے عام اس سے کہ ان افعال سے مختلف جماعتوں کے درمیان منافرت و مغامرت کے جذبات کو ترقی ہوتی ہے یا نہیں۔لہذا حکومت ہند نے فیصلہ کر لیا ہے کہ لیجسلیٹیو اسمبلی میں فوراً ایک مسودہ قانون پیش کر دیا جائے تا کہ تعزیرات ہند کے باب پانزدہم میں ایک نئی دفعہ کا اضافہ ہو جائے جس کے رو سے کسی مذہب کی عمدا تو ہین یا تو ہین کی کوشش یا ملک معظم کی رعایا کی کسی جماعت کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے یا مجروح کرنے کی کوشش کو بذات خود ایک جرم قرار دیا جا سکے۔اس دفعہ کو کتاب الآ ئین پر لانے کے لئے ضابطہ فوجداری میں بھی بعض ترمیمات کی جائیں گی جو اس اجلاس میں پیش ہوں گی۔الفضل 30 اگست 1927 ء بحوالہ تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ 612-613) چنانچہ اسمبلی نے اس معاملے کے پیش ہونے پر ایک نئی دفعہ کا اضافہ منظور کر لیا اور پیشوایان مذہب کی عزت کے تحفظ کا قانون پہلے سے بھی زیادہ معین صورت اختیار کر گیا۔