ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 127
127 جاسکتی ہے۔سرمائیکل اڈوائر اور ٹائمنز آف لندن کے مسٹر براؤن نے ان تجاویز کو نہایت ہی ضروری تجاویز قرار دیا اور بہت سے ممبران پارلیمنٹ اور دوسرے سر بر آوردوں نے ان کی اہمیت کو تسلیم کیا۔لیکن افسوس کہ ان حکام نے جن کے ساتھ ان تجاویز کا تعلق تھا ان کی طرف پوری توجہ نہ کی جس کا نتیجہ وہ ہوا جو نظر آرہا ہے ملک کا امن برباد ہو گیا اور فتنہ و فساد کی آگ بھڑک اٹھی۔یہ تفصیل بیان کرنے کے بعد حضور نے حکومت اور مسلمانوں کو مروجہ قانون (153۔الف) کی چار واضح خامیوں کی طرف توجہ دلائی۔-1 موجودہ قانون صرف اس شخص کو مجرم گردانتا ہے جو فسادات کی نیت سے کوئی مضمون لکھے۔براه راست تو ہین انبیاء کو جرم نہیں قرار دیتا۔۔اس قانون کے تحت صرف حکومت ہی مقدمہ چلا سکتی ہے۔۔اس قانون میں یہ اصلاح کرنا ضروری ہے کہ جوابی کتاب لکھنے والے پر اس وقت تک قانونی کارروائی نہ کی جائے جب تک کہ اصل مؤلف پر مقدمہ نہ چلایا جائے بشرطیکہ اس نے گندہ دینی سے کام لیا ہو۔4 یہ قانون صوبائی ہے لہذا اصل قانون یہ ہونا چاہئے کہ جب ایک گندی کتاب کو ایک صوبائی حکومت ضبط کرلے تو باقی صوبائی حکومتیں بھی قانوناً پابند ہوں کہ وہ اپنے صوبوں میں اس کتاب کی طباعت یا اشاعت بند کر دیں بلکہ بہتر یہ ہے کہ اس قانون پر عمل درآمد گورنمنٹ آف انڈیا کے اختیار میں ہو جو کسی صوبہ کی حکومت کے توجہ دلانے پر ایک عام حکم جاری کردے جس کا سب صوبوں پر اثر ہو۔الفضل 19 اگست 1927 ء بحوالہ تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ 610-611) ہندوستان سے یہ آواز بلند کرنے کے بعد حضور نے لندن کے مبلغ مولوی عبد الرحیم صاحب در دایم۔اے کے ذریعہ انگلستان میں بھی کوشش کر کے وہاں کے پریس میں یہ سوال اٹھا دیا کہ موجودہ قانون ناقص ہے اور اسے جلد بدلنا چاہئے اور پارلیمنٹ میں بھی بعض ممبروں نے یہ معاملہ رکھا اور خود آپ تحفظ ناموس رسول اور مسلمانوں کے ملکی وقومی حقوق کی نگہداشت کے لئے جد و جہد کو آخری شکل دینے اور اس کو نتیجہ خیز بنانے کے لئے ہندوستان کے مشہور مسلم وغیر مسلم زعماء سے تبادلہ خیالات کرنے کے علاوہ حکومتی حلقوں سے رابطہ پیدا کرنے کے لئے بنفس نفیس 13 اگست 1927ء کو شملہ تشریف لے گئے اور قریباً ڈیڑھ ماہ تک دن رات مصروف رہنے کے بعد 12اکتوبر 1927ء کو قادیان واپس تشریف لائے۔