ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 126
126 اسلام اور مسلمانوں پر الزام لگانا شروع کر دیئے کہ اسلام میں جواب دینے کی سکت نہیں اور ملکی فضا مکدر ہو کر رہ گئی۔اس پر اسلام کے لئے در در کھنے والے دل حضرت مصلح موعود ایک دفعہ پھر میدان میں آئے۔اپنے خطبات و تقاریر کے ذریعہ اسلام کا دفاع فرمایا۔اور حکومت عوام اور مسلمانوں کو قیمتی مشورے دینے کے علاوہ ہندو اور مسلمانوں دونوں سے اپیل کی کہ ایک دوسرے کے بزرگوں کا احترام کریں کہ یہی طریق قیام امن کا موجب ہو سکتا ہے۔تحفظ ناموس پیشوایان مذاہب کے لئے مکمل قانون کا مطالبہ تاریخ احمدیت جلد 5 صفحہ 133-134 ) مقدمہ "ور تمان " کے فیصلہ سے یہ ثابت ہو جانے کے بعد کہ جسٹس کنور دلیپ سنگھ نے دفعہ 153 الف کی جو تشریح کی ہے بالکل غلط ہے اس امر کی فوری ضرورت تھی کہ بزرگان مذاہب کی توہین کے انسداد کے لئے پہلے سے زیادہ واضح اور زیادہ مکمل قانون کا مطالبہ حکومت سے کیا جاتا۔چنانچہ حضرت خلیفتہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے 10 راگست 1927ء کو فیصلہ ور تمان کے بعد "مسلمانوں کا اہم فرض " کے عنوان سے ایک اشتہار شائع کیا جس کے ابتدا میں یہ بتایا کہ جماعت احمد یہ اس قانون کے نامکمل ہونے کی دیر سے شاکی ہے۔حضور نے تحریر فرمایا کہ :۔1897ء میں بانی سلسلہ احمدیہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے گورنمنٹ کو اس طرف توجہ دلائی تھی کہ مذہبی فتن کو دور کرنے کے لئے اسے ایک زیادہ مکمل قانون بنانا چاہئے لیکن افسوس کہ لارڈالجن نے جو اس وقت وائسرائے تھے اس تجویز کی طرف مناسب توجہ نہ کی۔اس کے بعد سب سے اول 1914ء میں میں نے سراڈ وائر کو اس امر کی طرف توجہ دلائی کہ گورنمنٹ کا قانون مذہبی فتن کے دور کرنے کے لئے کافی نہیں اور جب تک اس کو مکمل نہ کیا جائے ملک میں امن قائم نہ ہوگا۔انہوں نے مجھے اس بارہ میں مشورہ کرنے کے لئے بلایا لیکن جس تاریخ کو ملاقات کا وقت تھا اس سے دو دن پہلے استاذی المکرم حضرت مولوی نور الدین صاحب امام جماعت احمد یہ فوت ہو گئے۔اور دوسرے دن مجھے امام جماعت منتخب کیا گیا۔چنانچہ وہ جماعت کے لئے ایک سخت فتنہ کا وقت تھا۔میں سراڈ وائر سے مل نہ سکا اور بات یو نہی رہ گئی۔اس کے بعد 1923ء میں میں میںکلیکن سابق گورنر پنجاب سے ملا اور انہیں اس قانون کے نقصوں کی طرف توجہ دلائی مگر باوجود اس کے کہ میں نے انہیں کہا تھا کہ آپ گورنمنٹ آف انڈیا کو توجہ دلائیں انہوں نے یہ معذرت کر دی کہ اس امر کا تعلق گورنمنٹ آف انڈیا سے ہے اس لئے ہم کچھ نہیں کر سکتے۔اس کے بعد میں نے پچھلے سال ہر ایسیلینسی گورنر جنرل کو ایک طویل خط میں ہندوستان میں قیام امن کے متعلق تجاویز بتاتے ہوئے اس قانون کی طرف بھی توجہ دلائی لیکن افسوس کہ انہوں نے محض شکریہ تک ہی جواب کو محدود رکھا اور باوجود وعدہ کے کہ وہ ان تجاویز پر غور کریں گے غور نہیں کیا۔میرے اس خط کا انگریزی ترجمہ چھ ہزار کے قریب شائع کیا گیا اور تمام حکام اعلیٰ سیاسی لیڈروں، اخباروں، پارلیمنٹ کے ممبروں اور دوسرے سر بر آوردہ لوگوں کو جاچکا ہے اور کلکتہ کے مشہور اخبار "بنگالی" نے جو ایک متعصب اخبار ہے لکھا ہے کہ اس میں پیش کردہ بعض تجاویز پر ہندو مسلم سمجھوتے کی بنیاد رکھی