ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 125 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 125

125 اسی طرح اخبار " انقلاب لاہور نے اپنی اشاعت 3 اگست 1927ء کو "احمدیوں کی قابل قدر خدمات اسلامی " کے عنوان لکھا۔احمدی فرقے سے براعتبار عقائد ہیں جو اختلاف ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔علاوہ بریں مطالبات اسلامی کی تکمیل کے طریقہ ہائے کار میں بھی ہمارے اور ان کے درمیان بڑی حد تک فرق و تفاوت موجود ہے لیکن ان اختلافات کے باوجود ہم اس فرقہ کی بعض قابل قدر خدمات اسلامی کا تہ دل سے اعتراف کرتے ہیں۔امام جماعت احمدیہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے مقدمہ راجپال کے فیصلہ کے متعلق نہ صرف ہندوستان میں ہی مسلمانوں کی ہم آہنگی اختیار کی بلکہ مسجد لندن کے امام مولوی عبدالرحیم درد کو اس قسم کی ہدایات بھی بھیج دیں کہ جہاں تک ہو سکے اس سلسلہ میں مسلمانوں کی شکایات کو پارلیمنٹ تک پہنچا دو اور انگلستان میں بھی اس جدو جہد کی بنیا درکھ دو۔جس نے آج مسلمانان ہند کو آتش زیر پا کر رکھا ہے ان ہدایات کا نتیجہ یہ ہوا کہ درد صاحب نے نہایت ہی دردمندی اور انہماک سے کام شروع کر دیا اور اب تک جو اطلاعات موصول ہو چکی ہیں۔ان سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک طرف بعض معززین انگلستان اور مسلمانان مقیم برطانیہ کے دستخطوں سے وزیر ہند کو بھیجنے کے لئے ایک محضر نامہ تیار ہو رہا ہے جس پر دوسو سے زائد دستخط کرنے والوں میں چینی ، ہندوستانی، ایرانی، افغانی اور برطانوی مسلمانوں کے علاوہ سر آتھر کانن ڈائل اور سرولیم سمپسن جیسے معزز اور نامور انگریز بھی شامل ہیں اور محضر نامہ میں راجپال کی کتاب اور مقدمہ راجپال کے خلاف شدید نفرت اور حقارت کا اظہار کیا گیا۔اس کے علاوہ " مانچسٹر گارڈین " نے اس مسئلہ پر ایک افتتاحیہ لکھا ہے جس میں بتایا ہے کہ حالات موجودہ میں اس قسم کی قابل اعتراض تحریروں کی اشاعت سخت خطرناک فسادات کا باعث ہو سکتی ہے یہ بھی مولوی عبد الرحیم صاحب در داور سردار اقبال علی شاہ صاحب احمدی کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔تازہ خبر یہ ہے کہ پارلیمنٹ کے کسی رکن نے راجپال کے مقدمہ کے متعلق ایک سوال بھی کر دیا ہے جس کے جواب میں ارل ونٹرٹن نے اعلان کیا ہے کہ عدالت عالیہ اس قسم کے مقدمہ کی سماعت کر رہی ہے اگر اس کا فیصلہ خاطر خواہ نہ ہوا تو اس قسم کی مطبوعات کے انسداد کے لئے قانون میں ترمیم کی جائے گی۔ہمیں یقین ہے کہ احمدیوں کی مساعی جمیلہ جاری رہیں گی اور دوسرے مسلمان بھی اس کام میں احمدیوں کی اعانت کریں گے۔یہاں تک کہ پارلیمنٹ میں ایک ایسی قومی جماعت پیدا ہو جائے جو مسلمانوں کے مطالبات کی پورے زور سے حمایت کر سکے ہم ان بر وقت خدمات کے لئے امام جماعت احمدیہ اور مولوی عبد الرحیم در دصاحب کے بہت شکر گزار ہیں۔تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ 608-609) رنگیلا رسول کے مصنف راجپال کا قتل اور مسلمانوں کو متحد رکھنے کے لئے حضور کی کاوشیں 6 اپریل 1929ء کے شروع میں ایک مسلمان نوجوان علم الدین نے بدنام زمانہ کتاب "رنگیلا رسول" کے دریدہ دہن اور بد باطن مصنف راجپال کو موقع پا کر لاہور میں قتل کر دیا۔جس پر آر یہ دھرم والوں اور آریہ اخباروں نے