ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 124 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 124

124 حضرت امام جماعت احمدیہ کی مساعی پر مسلم اخبارات کا اظہار تشکر ناموس رسول عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت اور دشمنان اسلام کے فتنہ کی سرکوبی کے لئے حضرت خلیفہ امسیح الثانی نے جو عظیم الشان جہاد کیا وہ اس دور کے اسلامی کارناموں میں ہمیشہ سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔چنانچہ اخبار مشرق ( گورکھپور ) نے حضرت امام صاحب جماعت احمدیہ کے احسانات کے عنوان پر مندرجہ ذیل نوٹ شائع کیا۔جناب امام صاحب جماعت احمدیہ کے احسانات تمام مسلمانوں پر ہیں۔آپ ہی کی تحریک سے "ور تمان " پر مقدمہ چلایا گیا۔آپ ہی کی جماعت نے " رنگیلا رسول" کے معاملہ کو آگے بڑھایا۔سرفروشی کی اور جیل خانہ جانے سے خوف نہیں کھایا آپ ہی کے پمفلٹ نے جناب گورنر صاحب بہادر پنجاب کو انصاف و عدل کی طرف مائل کیا۔آپ کا پمفلٹ ضبط کر لیا مگر اس کے اثرات کو زائل نہیں ہونے دیا۔اور لکھ دیا کہ اس پوسٹر کی ضبطی محض اس لئے ہے کہ اشتعال نہ بڑھے اور اس کا تدارک نہایت ہی عادلانہ فیصلہ سے کر دیا اور اس وقت ہندوستان میں جتنے فرقے مسلمانوں میں ہیں۔سب کسی نہ کسی وجہ سے انگریزوں یا ہندوؤں یا دوسری قوموں سے مرعوب ہور ہے ہیں صرف ایک احمدی جماعت ہے جو قرون اولیٰ کے مسلمانوں کی طرح کسی فرد یا جمعیت سے مرعوب نہیں ہے اور خاص اسلامی کام سرانجام دے رہی ہے۔مسلم پولیٹیکل جماعت جو لندن میں بنائی گئی ہے یہ مسلم لیگ کی طرح مٹ جانے والی اور تباہ ہو جانے والی چیز نہ ہوگی۔(اخبار مشرق 23 ستمبر 1927 ء بحوالہ تاریخ احمدیت جلد 4 صفحه 607) اس اخبار نے اپنی ایک اور اشاعت میں لکھا۔یہ واقعہ ہے اس پر کوئی پردہ نہیں ڈال سکتا کہ مسلمانوں کے تمام فرقوں میں سے صرف احمدی جماعت ہی اس بات کا دعویٰ کر سکتی ہے کہ اس نے فتنہ ارتداد کا مقابلہ بر حیثیت اچھا کیا اور خوب کیا اور اس سے زیادہ بہتر اور صحیح طریق پر ناموس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کے لئے جہادا کبر بھی کسی دوسری جماعت نے نہیں کیا۔۔۔۔۔۔۔اس موقعہ پر قابل تحسین تمام فرقوں کے مسلمان ہیں جنہوں نے اختلاف کو چھوڑ کر خدا کے حکم پر تمسک کیا اور رہنمائے اسلام امین کامل صادق پاک باز حضرت محمد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ناموس کی حفاظت کے لئے ایک مرکز پر جمع ہو گئے اور یہی خدا کا حکم ہے۔قرآن پاک میں برابر اس کی تاکید مسلمانوں کو ہے کہ تفرقہ نہ پیدا کرو۔فرقہ بندی کو چھوڑ دو اور سب ایک ہو جاؤ گے تو غیر مسلم فرقے تم کو نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ہم جماعت احمدیہ کو مبارک باد دیتے ہیں کہ وہ سچا کام خدمت اسلام کا انجام دے رہی ہے اور اس وقت ہندوستان میں کوئی جماعت اتنا اچھا اور ٹھوس کام نہیں کرتی کہ وہ ہر موقعہ پر مسلمانوں کو حفاظت اسلام اور بقائے اسلام کے لئے توجہ دلاتی رہتی ہو۔باوجود اختلاف عقائد کے ہمارے دل پر اس جماعت کی خدمات کا گہرا اثر ہے۔اور آج سے نہیں۔جناب مرزا غلام احمد صاحب مرحوم کے زمانہ سے اس وقت تک ہم نے کبھی اس کے خلاف کوئی حرف زبان اور قلم سے نہیں نکالا۔(اخبار مشرق یکم ستمبر 1927ء بحوالہ جماعت احمدیہ کی اسلامی خدمات صفحہ 57-58)