ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 123
123 رسالہ ورتمان کے مضمون نگار کو سزا دلوانے کے لئے حضرت مصلح موعودؓ کی کوششیں رسالہ دور تمان میں شائع ہونے والے مضمون کے حوالہ سے قائم ہونے والا مقدمہ چیف جسٹس نے ایک حج کے سپر د کر دیا۔لیکن حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے حکومت کو بذریعہ تار توجہ دلائی کہ یہ مقدمہ ایک سے زیادہ جوں کے سامنے پیش ہونا چاہئے تا دفعہ 153 الف سے متعلق جسٹس دلیپ سنگھ کے فیصلہ کی تحقیق ہو جائے۔یہ معقول مطالبہ حکومت نے منظور کر لیا اور مقدمہ ورتمان ڈویژن بینچ کے سپر د ہو گیا۔جس نے 16 اگست 1927 ء کو فیصلہ سنایا کہ مذہبی پیشواؤں کے خلاف بد زبانی 153 الف کی زد میں آتی ہے اور بانی اسلام کو اسلام سے علیحدہ نہیں کیا جاسکتا اور بنا بریں ڈویژن بینچ نے اور تمان کے مضمون نگار کو ایک سال قید با مشقت اور پانچ سو روپیہ جرمانہ اور ایڈیٹر کو چھ ماہ قید سخت اور اڑھائی سور و پیہ جرمانہ کی سزادی۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے جذبات اس فیصلہ پر مسلمان خوش ہو گئے اور حضرت خلیفتہ اسیح الثانی رضیاللہعنہ کو بہت سے لوگوں نے مبارکباد کے تار بھی دیئے مگر آپ نے فرمایا۔”میرا دل غمگین ہے کیونکہ میں اپنے آقا، اپنے سردار حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تک عزت کی قیمت ایک سال کے جیل خانہ کو نہیں قرار دیتا۔میں ان لوگوں کی طرح جو کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دینے والے کی سزا قتل ہے ایک آدمی کی جان کو بھی اس کی قیمت نہیں قراردیتا۔میں ایک قوم کی تباہی کو بھی اس کی قیمت نہیں قرار دیتا۔میں دنیا کی موت کو بھی اس کی قیمت نہیں قرار دیتا۔بلکہ میں اگلے پچھلے سب کفار کے قتل کو بھی اس کی قیمت نہیں قرار دیتا۔کیونکہ میرے آقا کی عزت اس سے بالا ہے کہ کسی فرد یا جماعت کا قتل اس کی قیمت قرار دیا جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیونکہ کیا یہ سچ نہیں کہ میرا آقا دنیا کو جلا دینے کے لئے آیا تھا نہ کہ مارنے کے لئے وہ لوگوں کو زندگی بخشنے کے لئے آیا تھا نہ کہ ان کی جان نکالنے کے لئے۔غرض محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت دنیا کے احیاء میں ہے نہ اس کی موت میں۔پس میں اپنے نفس میں شرمندہ ہوں کہ اگر یہ دو شخص جو ایک قسم کی موت کا شکار ہوئے ہیں اور بدبختی کی مہرانہوں نے اپنے ماتھوں پر لگائی ہے اس صداقت پر اطلاع پاتے جو محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا ہوئی تھی تو کیوں گالیاں دے کر برباد ہوتے کیوں اس کے زندگی بخش جام کو پا کر ابدی زندگی نہ پاتے اور اس صداقت کا ان تک نہ پہنچنا مسلمانوں کا قصور نہیں تو اور کس کا ہے۔پس میں اپنے آقا سے شرمندہ ہوں کیونکہ اسلام کے خلاف موجودہ شورش در حقیقت مسلمانوں کی تبلیغی سستی کا نتیجہ ہے۔قانون ظاہری فتنہ کا علاج کرتا ہے نہ دل کا اور میرے لئے اس وقت تک خوشی نہیں جب تک کہ تمام دنیا کے دلوں سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بغض نکل کر اس کی جگہ آپ کی محبت قائم نہ ہو جائے۔الفضل 19 اگست 1927 ء بحوالہ تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ 606-607)