ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 122 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 122

122 رنگیلا رسول کے مصنف کو سزا ملنے کے بعد کالائحہ عمل یہ زمانہ اسلام پر بہت نازک زمانہ ہے اس میں خصوصیت سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر حملے ہورہے ہیں۔جس طرح بھی ممکن ہو دشمن آپ کی ہر بات پر اعتراض کر کے اسے بڑی مشکل میں پیش کر رہے ہیں۔رنگیلا رسول کے مصنف کو اگر 18 ماہ کی قید ہوگئی تو کیا اور اگر دس سال کی قید ہو جائے تو کیا۔کیا اس سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مقام محمود پر کھڑے ہو جائیں گے۔یہ تو ایک سرکاری حج نے فیصلہ کیا ہے کہ رنگیلا رسول کے مصنف کو سزا دے کر ظاہر کیا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان باتوں کے مستحق نہیں جو آپ کے متعلق کہی گئیں۔مگر یا درکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم انگریزوں کی یا کسی اور کی دی ہوئی تعریف کے ذریعہ مقام محمود نہیں پاسکتے۔سینکڑوں ہزاروں گالیاں دینے اور مذمت کرنے والوں میں سے اگر ایک شخص کو سزا مل گئی تو کیا ہوا۔اس کا تو ایک ہی ذریعہ ہے کہ اگر مسلمان اپنے طریق سے یہ بات ثابت کر دیتے۔اپنے چال چلن سے یہ بات ثابت کر دیتے ہیں۔اپنے تقومی اور دینداری سے یہ بات ثابت کر دیتے کہ وہ متقی اور پرہیز گار ہیں۔وہ دیانتدار ہیں محنتی ہیں، کوشش کرنے والے ہیں اور علوم وفنون میں ترقی کرنے والے ہیں۔تو لوگ خود ہی تعریف کرتے اور خود ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خوبیاں بیان کرتے۔پھر اگر ہزار رنگیلا بھی نکلتے تو ان کا کوئی اثر نہ ہوتا یا اگر مسلمان تبلیغ کے لئے کھڑے ہو جاتے اور ان لوگوں میں سے جو اعتراض کرتے ہیں لاکھوں کو مسلمان بنا لیتے۔تو مذمت کرنے والے کم اور مدح کرنے والے زیادہ ہو جاتے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حمد بڑھنی شروع ہو جاتی۔میں اس موقع پر خصوصیت سے اپنی جماعت کے لوگوں سے کہتا ہوں کہ وہ کھڑے ہو جائیں۔ایک مکمل ندا اور ایک کامل عبادت ان کو دی گئی ہے جس کے نتائج یقینی ہیں۔ان سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔کیونکہ ان سے اگر فائدہ اٹھایا جائے گا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مذمت کرنے والوں کی تعداد کم ہو جائے گی اور مدح کرنے والوں کی تعداد بڑھ جائے گی۔یہی وہ طریق ہے جس سے تم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مقام محمود پر کھڑا کر سکتے ہو اور یہ تمہارے اختیار میں ہے۔چاہو تو آپ کو اس منبر پر کھڑا کر دو جس پر آپ کی تعریف ہو اور چاہو تو اس جگہ پر آپ کو لے آؤ جہاں آپ کی مذمت ہو۔لیکن اس صورت میں تمہارا یہ دعا مانگنا کہ اے خدا! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مقام محمود پر کھڑا کر تمسخر ہو گا ہتک ہوگی اور بے عزتی ہوگی۔میں اپنی جماعت کے سوا باقی مسلمانوں کو بھی توجہ دلاتا ہوں کہ اگر وہ پہلے نہیں سمجھے تو آج میرے ذریعے اس دعا کو سمجھ لیں اور اس شخص کے ذریعے اس دعا کو سمجھ لیں جسے خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے اس کا مطلب سمجھایا اور جس کے دل میں اسلام کا درد ہے۔اس میں ان کی کوئی ہتک نہیں۔خطبات محمود جلد 11 صفحه 85-86)