ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 121 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 121

121 22 جولائی 1927ء کو جلسے کا شاندار منظر اور قومی وملی اتحاد حضرت خلیفہ اسی الثانی کی اس آواز پر جو آپ نے قادیان سے بلند کی تھی پورا ہندوستان گونج اٹھا اور ایک آپ کی تحریک پر 22 جولائی کو مسلمانان ہند نے ہر جگہ کامیاب جلسے کئے اور ایک متحدہ پلیٹ فارم سے نہ صرف مسلم آؤٹ لک کے مالک اور مدیر کی گرفتاری پر احتجاج کیا گیا بلکہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی سکیم کے مطابق مسلمانوں نے مشترکہ انجمنیں قائم کر کے دوکانیں کھلوائیں تبلیغ اسلام کی طرف توجہ دی اور اپنے سیاسی حقوق کے لئے اپنی جد و جہد تیز تر کر دی اور ایک محضر نامہ تیار کیا جس پر پانچ لاکھ مسلمانوں کے دستخط تھے۔(الفضل 125اکتوبر 1927ء) لندن میں مسلم پولیٹیکل لیگ کا قیام ناموس رسالت کی خاطر جماعت احمدیہ کی کوششوں کا دائرہ صرف اندرون ملک تک ہی نہیں رہا بلکہ بیرونی ممالک تک ممتد ہوا اور جماعت احمدیہ کی کوشش سے لندن میں مسلم حقوق کی تائید کے لئے ایک مسلم پولیٹیکل لیگ قائم کی گئی اور انہی دنوں چوہدری ظفر اللہ خان صاحب بیرسٹر مسلمانان پنجاب کے نمائندہ کی حیثیت سے لندن تشریف لے گئے آپ نے دارالعوام اور دارالامرا کے ممبروں انڈیا آفس کے عہد یداروں سابق وائسرائے ، گورنروں، پارلیمنٹ کے کارکنوں اور پریس کے نمائندوں سے ملاقاتیں کیں۔کئی مجالس کو خطاب کیا اور مشہور برطانوی اخبارات میں مضمون لکھے جن کے نتیجہ میں پبلک حلقوں میں مسلمانوں کے حقوق کی نسبت اور زیادہ دلچسپی پیدا ہوگئی۔ہندوؤں کی طرف سے مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ 604) اُدھر ہندوؤں نے جب دیکھا کہ قادیان سے بلند ہونے والی تحریک نے مسلمانوں میں زبر دست ہیجان پیدا کر دیا ہے تو انہوں نے مسلمانوں کو احمدیوں کے خلاف اکسانا شروع کیا اور دونوں میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کی۔اس سلسلہ میں جماعت احمدیہ کی کاوشوں کا ذکر کرتے ہوئے ایک ہند واخبار نے لکھا۔اس وقت لاہور کے بدنام اخبار "مسلم آؤٹ لک" کے ایڈیٹر اور پرنٹر پبلشر کے قید ہونے پر تمام ہندوستان کے مسلمان ایک غیر معمولی مگر فرضی جوش کا اظہار کر رہے ہیں اور " مسلم آؤٹ لک" کی پیروی کے لئے بے قرار ہوئے پھرتے ہیں اخبار " مسلم آؤٹ لک" کے متعلق ہمیں یہ معلوم کر کے از حد حیرت ہوئی ہے کہ اس کے ایڈیٹر مسٹر دلاور شاہ بخاری احمدی تھے اور جب ہائیکورٹ کا نوٹس ان کے نام آیا تو وہ مرزا قادیان کے پاس گئے تا کہ اپنے ڈیفنس یا طرز عمل کے متعلق اس کی رائے لیں۔مرزا نے انہیں مشورہ دیا کہ معافی مانگنے کے بجائے قید ہو جانا بہتر ہے غرضیکہ ہر پہلو سے یہ ایک احمدی تحریک ہے اور احمدیوں کی چالا کی پر ہمیں حیرت ہوتی ہے کہ کس طرح انہوں نے تمام مسلمانوں کو اپنے آگے لگایا ہوا ہے اور تو اور جو مسلمان لیڈر انہیں کا فرقرار دیتے تھے وہ بھی اس وقت انہیں لیڈر تسلیم کرتے اور ان کی ہاں میں ہاں ملانا اسلام کی بہت بڑی خدمت خیال کرتے ہیں۔گورو گھنٹال لاہور 11 جولائی 1927 ء بحوالہ تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ 605-606)