ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 120
120 کہ اب انہیں کیا اقدام کرنا چاہئے۔ایک فریق نے یہ علاج سوچا کہ عدالتوں کا بائیکاٹ کیا جائے۔دوسرے فریق نے کہا کہ مسلم آؤٹ لک کے ایڈیٹر کی طرح دوسرے مسلمان بھی تو ہین عدالت کے جرم کا تکرار کریں آخر کتنے مسلمانوں کو جیل خانہ میں ڈالا جا سکے گا۔تیسرے فریق نے یہ تجویز بتائی کہ ملک میں سول نافرمانی شروع کر دی جائے۔مگر حضرت خلیفتہ اسیح الثانی نور اللہ مرقدہ نے ان سب تدبیروں کو پر زور دلائل سے بے فائدہ اور بے سود بلکہ مسلم مفادات کے اعتبار سے انتہائی نقصان دہ اور ضرررسان ثابت کیا اور اس نازک ترین وقت میں جبکہ مسلمانوں اور اسلام کی زندگی اور موت کا سوال در پیش تھا مسلمانوں کی رہنمائی فرمائی اور تحفظ ناموس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک پُر امن مگر موثر عملی تحریک کا آغاز کر دیا۔22 جولائی 1927 ء کے دن جلسوں کی تجویز اس سلسلہ میں حضور نے ابتدائی مرحلہ پر فوری رنگ میں یہ تجویز کی کہ " مسلم آؤٹ لک " کے مدیر و مالک کی قید کے پورے ایک ماہ بعد یعنی 22 جولائی 1927ء کو جمعہ کے دن ہر مقام پر جلسے کئے جائیں جن میں مسلمانوں کو اقتصادی اور تمدنی آزادی سے متعلق آگاہ کیا جائے اور سب سے وعدہ لیا جائے کہ وہ اپنے اپنے حلقہ میں تبلیغ اسلام کا کام جاری کریں گے۔اور ہندوؤں سے ان امور میں چھوت چھات کریں گے جن میں ہند و چھوت چھات کرتے ہیں اپنے قومی حقوق قوانین حکومت کے ماتحت حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔اس دن ہر مقام پر ایک مشتر کہ انجمن بنائی جائے جو مشترکہ فوائد کا کام اپنے ہاتھ میں لے۔اسی طرح تمام مسلمان حکومت سے درخواست کریں کہ ہائی کورٹ کی موجودہ صورت مسلمانوں کے مفاد کے خلاف اور ان کی بنک کا موجب ہے ( پنجاب میں ) پچپن فیصد آبادی والی قوم کے کل دو حج ہیں۔اس لئے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ کم سے کم ایک مسلمان حج پنجاب کے بیرسٹروں میں سے اور مقرر کیا جائے اور اسے نہ صرف مستقل کیا جائے بلکہ دوسرے جوں سے اسے اس طرح سینئر کیا جائے کہ موجودہ چیف جسٹس ( سر شادی لال) کے بعد وہی چیف جج ہو۔حضور نے مزید فرمایا کہ 22 جولائی کے جلسوں میں مسلمانوں سے دستخط لے کر ایک محضر نامہ تیار کیا جائے کہ ہمارے نزدیک "مسلم آؤٹ لک" کے ایڈیٹر اور مالک نے ہرگز عدالت عالیہ کی ہتک نہیں کی بلکہ جائز نکتہ چینی کی ہے جو موجودہ حالات میں ہمارے نزدیک طبعی تھی اس لئے ان کو آزاد کیا جائے اور جلد سے جلد جسٹس کنور دلیپ سنگھ کا فیصلہ مستردکر کے مسلمانوں کی دلجوئی کی جائے۔الفضل یکم جولائی 1927 ء بحوالہ تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ 603-604) انگریزی حکومت نے چاہا کہ آپ یہ مہم جاری نہ کریں۔لیکن حضور نے حکومت کو صاف صاف کہہ دیا کہ مجھ سے یہ نہیں ہو سکتا کہ گورنمنٹ کی خاطر قوم کو قربان کر دوں اس وقت قوم کی حفاظت کا سوال ہے۔لیکچر شملہ صفحہ 33 بحوالہ تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ 604)