ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 119 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 119

119 مسلم آؤٹ لک کے اس کیس کے سلسلہ میں جو در حقیقت راجپال کے مقدمہ تحقیر نبی کریم کا ایک شاخسانہ تھا۔شفیع مرحوم و مغفور کی کوٹھی پر پنجاب کے بہترین وکلاء اس غرض کے لئے جمع ہوئے تھے کہ اس مقدمہ کو ہائیکورٹ میں جوں کے سامنے کون پیش کرے تو ان چوٹی کے آٹھ دس وکلاء نے ( جو سب کے سب لیڈر اور قومی رہنما اور سردار سمجھے جاتے ہیں ) متفقہ طور پر فیصلہ کیا تھا کہ اس کام کو چوہدری ظفر اللہ خان کے علاوہ اور کوئی شخص کامیابی کے ساتھ انجام نہیں دے سکتا۔چوہدری صاحب موصوف نے اگر چہ اس بات پر بہت زور دیا اور فرمایا کہ آپ حضرات تجربہ قابلیت ،شہرت اور استعداد میں مجھ سے بڑھ کر ہیں۔مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ذمہ دار کارکن آپ میں سے کوئی بزرگ ہو جائے اور میں بطور اسسٹنٹ ممکن خدمت اور مدد کرتار ہوں لیکن اس کو کسی ایک نے بھی منظور نہ کیا۔چوہدری صاحب نے ہائیکورٹ میں یہ کیس بڑی خوبی کے ساتھ پیش کیا اور اپنی سحر بیان تقریر کے آخری فقروں میں فرمایا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم جن کے احکام کے سامنے دنیا کی چالیس کروڑ آبادی کی گردنیں جھکی ہوئی ہیں جن کی غلامی پر دنیا کے جلیل القدر شہنشاہ عظیم الشان وزراء مشہور عالم جرنیل اور کرسی عدالت پر رونق افروز ہونے والے حج ( جن کی قابلیت پر زمانہ کو ناز ہے ) فخر کرتے ہیں ایسے انسان کامل کے متعلق راجپال کی ذلیل تحریر کو کسی حج کا یہ قرار دینا کہ اس سے نبی کریم کی کوئی بہتک نہیں ہوئی تو پھر مسلم آؤٹ لک کے مضمون سے بھی یہ فیصلہ قرار دینے والے کہ اس سے کسی کی کوئی تحقیر نہیں ہوئی صاحب الرائے ٹھہرتے ہیں۔تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ 600-601) اخبار " سیاست " لا ہور نے 23 جون 1927 ء کولکھا۔اگر چہ فیصلہ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کے خلاف ہوا تاہم ان کی قابلیت اور ان کے فاضلانہ خطاب کا ہر شخص معترف تھا اور اپنے اور بیگانے وکلاء نے بھی ان کو ان کی تیاری اور قابلانہ تقریر پر مبارک باددی۔۔۔مسٹر ظفر اللہ نے ثابت کیا کہ کسی حج سے استعفاء کا مطالبہ کرنا اس کی ہتک کرنا نہیں ہے اس کو عدالت نے تسلیم کیا آپ نے کہا کہ ملزمین نے نہایت دلیرانہ جواب دیا ہے اس سے ظاہر ہے کہ وہ جھوٹ بولنے والے نہیں ہیں جب وہ کہتے ہیں کہ ہمارا مقصد یہ نہ تھا کہ حج کی نیت پر حملہ کریں تو ہمیں ان کے بیان پر اعتماد کرنا چاہئے اور اس امر کی تحقیقات چاہتے تھے کہ آیا اس مقدمہ میں سرکاری وکیل نے خوب بحث کی یا نہ کی اور حج نے اس کو دو جوں کے سپرد کیوں نہ کر دیا اکیلے کیوں فیصلہ کیا وغیرہ وغیرہ آپ نے کہا کہ ایک فقرہ کے بھلے اور بُرے دو معنی ہو سکتے ہیں اس کے جو بھلے معنی ہیں عدالت ان کو اختیار کرے۔( تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ 601-602) عدالت نے چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کے فاضلانہ دلائل سننے کے باوجود دوملزمان سید دلاور شاہ بخاری اور مولوی نور الحق صاحب کو قید اور جرمانے کی سزاسنادی اور جیل بھجوا دیا۔تحفظ ناموس رسول کے لئے مسلمانان ہند کی رہنمائی اور ملک گیر تحریک کا آغاز عدالتی فیصلہ پر مسلمانان ہند کا قومی دماغ سخت پریشان ہو گیا اور مسلمان اس وقت متفق طور پر یہ فیصلہ نہ کر سکے