ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 118 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 118

118 حضور کا سید دلاور شاہ بخاری کو مشورہ سید دلاور شاہ صاحب بخاری ہائیکورٹ کا نوٹس لے کر حضور کی خدمت میں بغرض مشورہ حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ بعض لوگوں کی رائے ہے کہ مضمون پر اظہار افسوس کر دینا چاہئے مگر حضور نے مشورہ دیتے ہوئے فرمایا۔" ہمارا فرض ہونا چاہئے کہ صوبہ کی عدالت کا مناسب احترام کریں لیکن جبکہ ایک مضمون آپ نے دیانتداری سے لکھا ہے اور اس میں صرف ان خیالات کی ترجمانی کی ہے جو اس وقت ہر مسلمان کے دل میں اٹھ رہے ہیں تو اب آپ کا فرض سوائے اس کے کہ اس سچائی پر مضبوطی سے قائم رہیں اور کیا ہوسکتا ہے۔یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا سوال ہے اور ہم اس مقدس وجود کی عزت کے معاملہ میں کسی کے معارض بیان پر بغیر آواز اٹھائے نہیں رہ سکتے ہیں۔۔میری طرف سے آپ کو یہ مشورہ ہے کہ آپ اپنے جواب میں لکھوا دیں کہ اگر ہائیکورٹ کے ججوں کے نزدیک کنور دلیپ صاحب کی عزت کی حفاظت کے لئے تو قانون انگریزی میں کوئی دفعہ موجود ہے لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کی حفاظت کے لئے کوئی دفعہ موجود نہیں تو میں بڑی خوشی سے جیل خانہ جانے کے لئے تیار ہوں۔" (الفضل یکم جولائی 1927 ء ) چنانچہ اس مقدمہ کی سماعت 22 جون 1927ء میں ہائیکورٹ کے فل بینچ کے سامنے سید دلا ورشاہ صاحب بخاری نے مومنانہ غیرت کا ثبوت دیتے ہوئے درج ذیل نہایت ایمان افروز بیان دیا کہ :۔مسلمان کا سب سے زیادہ محبوب اور مطلوب جذ بہ یہ ہے کہ وہ اسلام کے پیغمبر پاک سے عقیدت وافر اور ارادت کامل رکھتا ہے۔مسلمان کے لئے خواہ وہ کسی طبقہ یا درجہ سے تعلق رکھتا ہو۔عام اس سے کہ وہ امیر ہو یا غریب و نادار یہ ناممکن ہے کہ پیغمبر پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پاک یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مبارکہ پر کسی قسم کا حملہ گوارا کر سکے۔۔۔۔۔۔۔۔یہی وجہ ہے کہ رنگیلا رسول کی اشاعت سے ہر ایک قلب مسلم پر یاس و ہیجان مستولی ہو گیا۔ہر مسلمان مضطرب نظر آنے لگا۔لیکن اس اشتعال انگیز کتاب کی اشاعت سے مشتعل شدہ جذبات کو ملت اسلامیہ کے ہر فرد نے دبائے رکھا۔اور اس امید سے دل کو تسلی دے لی کہ اس کی اشاعت کے ذمہ دار کو قانون کے ماتحت واجب اور منصفانہ سزادی جائے گی اور کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔آنریبل مسٹر جسٹس دلیپ سنگھ کے فیصلہ نے امیدوں کے قصر کی اینٹ سے اینٹ بجادی اور اس وسیع ملک کے طول و عرض میں لاکھوں کروڑوں مسلمانوں کے جذبات کو نہایت سخت صدمہ پہنچا۔انقلاب 23 جون 1927 ضمیمه از تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ 600) چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کی فاضلانہ بحث اس مقدمہ میں وکالت کے لئے مسلمان وکلاء نے متفقہ طور پر جناب چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کا نام تجویز کیا اور آپ نے مقدمہ میں ایسی قابلیت اور عمدگی سے وکالت کی کہ سب مسلمانوں نے آپ کو خراج تحسین ادا کیا۔چنانچہ اخبار " دور جدید " لا ہور نے 16 اکتوبر 1933 ء کولکھا۔