ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 117
117 ہونے لگے اور خود حکومت کو بھی "اور تمان " کا ناپاک اور گندہ پرچہ ضبط کرنے اور اس کے ایڈیٹر اور مضمون نگار پر مقدمہ چلانے کی فوری توجہ پیدا ہوئی۔ہندوؤں نے یہ صورت دیکھی تو سر میلکم ہیلی (SIR MALCOLM HAILEY) گورنر پنجاب کے نام کھلی چھٹی لکھی۔اس رسالہ " ور تمان " میں جو مضمون قابل اعتراض سمجھا گیا ہے اس کے جواب میں ایک نہایت گندہ دل آزار اور اشتعال دلانے والا پوسٹر مرزا بشیر۔۔۔قادیان کی طرف سے شائع کیا گیا اور اس کی ہزار ہا کا پیاں چھاپ کر ملک کے ہر حصہ میں تقسیم اور چسپاں کرائی گئیں۔رسالہ ورتمان کا وہ پرچہ جس پر قابل اعتراض مضمون چھپا چند سو سے زیادہ نہ چھپا ہوگا اور اسے ایک آدھ مسلمان کے سوا اور کسی مسلمان نے نہیں پڑھا ہوگا لیکن مرزا کا پوسٹر جہاں لاکھوں مسلمانوں نے پڑھا وہاں لاکھوں ہندوؤں کی بھی نظر سے گزرا۔اور اس طرح پر اس کے ذریعہ زیادہ زہر پھیلا یا گیا۔مگر سر کار نے مرزا کی اس شرارت کا اس کے سوا اور کوئی نوٹس نہ لیا کہ اس کا پوسٹر ضبط کر لیا گیا۔کیا اس امر کی ضرورت نہ تھی کہ جس طرح لالہ گیان چند (ایڈیٹر ورتمان - ناقل) کے خلاف مقدمہ چلایا گیا ہے اس طرح مرزا کے خلاف بھی قانون کو حرکت دی جاتی۔کتاب "رنگیلا رسول" سے متعلق عدالت پنجاب کا فیصلہ اس ناپاک کتاب کے مقدمہ میں راجپال کو زیر دفعہ 153 - الف تعزیرات ہند چھ ماہ قید با مشقت اور ایک ہزار روپیہ جرمانہ یا چھ ماہ قید مز ید کی سزا ہوئی تھی۔راجپال نے پنجاب ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی اور اس کے بیج کنور دلیپ سنگھ نے فیصلہ دیا کہ :۔میری رائے میں دفعہ 153۔الف اس قدر وسیع معانی کے لئے نہیں بنایا گیا تھا۔میرے خیال میں اس دفعہ کے وضع کرنے کا مقصد یہ تھا کہ لوگوں کو کسی ایسی قوم پر حملہ کرنے سے روکا جائے جو موجود ہو نہ کہ اس سے گزشتہ مذہبی رہنماؤں کے خلاف اعتراضات اور حملوں کو روکنا مقصود تھا۔جہاں تک میرا تعلق ہے میں اس امر پر اظہار افسوس کرتا ہوں کہ ایسی دفعہ کی تعزیرات میں کمی ہے لیکن میں یہ نہیں سمجھتا کہ یہ مقدمہ دفعہ 153۔الف کی زد میں آتا ہے اس لئے میں نظر ثانی کو بادل ناخواستہ منظور کرتا ہوں اور مرافعہ گزار کو بری کرتا ہوں۔اس فیصلہ کے خلاف اخبار مسلم آؤٹ لک (Muslim Out Look) کے احمدی ایڈیٹر سید دلاور شاہ صاحب بخاری نے 14 جون 1967ء کو " مستعفی ہو جاؤ" کے عنوان سے ایک ادار یہ لکھا۔جس پر پنجاب ہائیکورٹ کی طرف سے اخبار کے ایڈیٹر اور اس کے مالک و طابع ( مولوی نور الحق صاحب) کے نام تو ہین عدالت کے جرم میں ہائیکورٹ کی طرف سے نوٹس پہنچ گیا۔