ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 116
116 کوستانے کے لئے ان لوگوں کو کوئی اور راستہ نہیں ملتا۔ہماری جانیں حاضر ہیں۔ہماری اولادوں کی جانیں حاضر ہیں۔جس قدر چاہیں ہمیں دکھ دے لیں لیکن خدا را نبیوں کے سردار کی ہتک کر کے اپنی دنیا اور آخرت کو تباہ نہ کریں کہ اس پر حملہ کرنے والوں سے ہم بھی صلح نہیں کر سکتے ہماری طرف سے بار بار کہا گیا ہے اور میں پھر دوبارہ ان لوگوں کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ ہماری جنگل کے درندوں اور بن کے سانپوں سے صلح ہو سکتی ہے لیکن ان لوگوں سے ہر گز صلح نہیں ہو سکتی جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دینے والے ہیں۔بیشک وہ قانون کی پناہ میں جو کچھ چاہیں کر لیں اور پنجاب ہائیکورٹ کے تازہ فیصلہ کی آڑ میں جس قدر چاہیں ہمارے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دے لیں۔لیکن وہ یاد رکھیں کہ گورنمنٹ کے قانون سے بالا اور قانون بھی ہے اور وہ خدا کا بنایا ہوا قانون فطرت ہے وہ اپنی طاقت کی بنا پر گورنمنٹ کے قانون کی زد سے بچ سکتے ہیں لیکن قانون قدرت کی زد سے نہیں بچ سکتے اور قانون قدرت کا یہ اٹل اصل پورا ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ جس کی ذات سے ہمیں محبت ہوتی ہے اس کو بُرا بھلا کہنے کے بعد کوئی شخص ہم سے محبت اور صلح کی توقع نہیں رکھ سکتا۔" پھر مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:۔تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ 597) "اے بھائیو! اسلام کی ترقی کے لئے اپنے دل میں تینوں باتوں کا عہد کر لو۔اول یہ کہ آپ خشیت اللہ سے کام لیں گے اور دین کو بے پرواہی کی نگاہ سے نہیں دیکھیں گے۔دوسرے یہ کہ آپ تبلیغ اسلام سے پوری دلچسپی لیں گے اور اس کام کے لئے اپنی جان اور اپنے مال کی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔اور تیسرے یہ کہ آپ مسلمانوں کو تمدنی اور اقتصادی غلامی سے بچانے کے لئے پوری کوشش کریں گے اور اس وقت تک بس نہیں کریں گے جب تک کہ مسلمان اس کچل دینے والی غلامی سے بکلی آزاد نہ ہو جائیں اور جب آپ یہ عہد کر لیں تو پھر ساتھ ہی اس کے مطابق اپنی زندگی بسر کرنے لگیں۔یہی وہ سچا اور حقیقی بدلہ ہے ان گالیوں کا جو اس وقت بعض ہند و مصنفین کی طرف سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فدا نفسی واہلی کو دی جاتی ہیں اور یہی وہ سچا اور حقیقی علاج ہے جس سے بغیر فساد اور بدامنی پیدا کرنے کے مسلمان خود طاقت پکڑ سکتے ہیں اور دوسروں کی مدد کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں ورنہ اس وقت تو وہ نہ اپنے کام کے ہیں نہ دوسروں کے کام کے اور وہ قوم ہے بھی کس کام کی جو اپنے سب سے پیارے رسول کی عزت کی حفاظت کے لئے حقیقی قربانی نہیں کر سکتی؟ کیا کوئی دردمند دل ہے جو اس آواز پر لبیک کہہ کر اپنے علاقہ کی درستی کی طرف توجہ کرے اور خدا تعالیٰ کے فضلوں کا وارث ہو۔" الفضل 10 جون 1927 ء بحوالہ تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ 597-598) اس پوسٹر نے جو پورے ہندوستان میں ایک ہی تاریخ کو راتوں رات چسپاں کر دیا گیا تھا۔ملک بھر میں زبر دست ہیجان کی صورت پیدا کر دی اور حکومت کو انتہائی جدو جہد کے ساتھ امن قائم رکھنا پڑا۔اگر چہ پوسٹر ضبط کر لیا گیا مگر یہ ضبطی غیرت رسول اور عشق رسول کے طوفان کو بھلا کیا روکتی اس سے مسلمانوں کے دلوں میں اسلام اور بانی اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے قربانی اور فدائیت کے جذبات پہلے سے بھی زیادہ شدت سے موجزن