ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 115
115 مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں۔مسلمانوں کو چاہیئے کہ وہ تمام فرقوں کے حقوق کا لحاظ رکھیں اور اپنے بچوں کے لئے اس قسم کی تاریخیں لکھیں جس میں سلاطین اسلام کے متعلق صحیح واقعات پیش کئے جائیں اور انہیں معلوم ہو کہ ان کا ماضی کس قدر شاندار تھا۔" ( اخبار تنظیم امرتسر 14 مارچ 1927 ء بحوالہ تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ 576) رنگیلا رسول اور رسالہ ورتمان میں حضرت محمد کی تضحیک اور جماعت کا دفاع وز بر دست رد عمل 1927 ء کا سال مسلمانوں پر بالخصوص احمدیوں پر ایک بھاری سال بن کر آیا جب بعض بد زبان اور دریدہ دہن آریوں نے ہمارے پیارے رسول حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات پر زبردست غلیظ حملے کئے اور راجپال نے "رنگیلا رسول " نامی کتاب لکھ کر مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا۔جس میں مصنف نے بانی اسلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت نہایت درجہ دلخراش اور اشتعال انگیز باتیں لکھیں۔جبکہ دوسری جانب امرتسر کے ہند و رسالہ "ور تمان " میں ایک آریہ دیوی شرن شرمانے " سیر دوزخ " عنوان سے افسانوی صورت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف دل دکھا دینے والا ایک مضمون تحریر کیا۔یہ بے حد دل آزاد مضمون مئی 1927ء کی اشاعت میں شائع ہوا۔اس شرمناک افسانہ میں حضور اور آپ کے مقدس اہل بیت کے نام بھی بگاڑ کر پیش کئے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی کا زبردست رد عمل حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے یہ اشتعال انگیز مضمون دیکھتے ہی ایک پوسٹر شائع فرمایا جس کا عنوان تھا۔"رسول کریم کی محبت کا دعویٰ کرنے والے کیا اب بھی بیدار نہ ہوں گے" اس پوسٹر میں حضور نے نہایت پر شوکت اور پر جلال انداز میں تحریر فرمایا۔" کیا اس سے زیادہ اسلام کے لئے کوئی اور مصیبت کا دن آ سکتا ہے؟ کیا اس سے زیادہ ہماری بیکسی کوئی اور صورت اختیار کرسکتی ہے؟ کیا ہمارے ہمسایوں کو یہ معلوم نہیں کہ ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فداہ نفسی واہلی کو اپنی ساری جان اور سارے دل سے پیار کرتے ہیں اور ہمارے جسم کا ذرہ ذرہ اس پاکبازوں کے سردار کی جوتیوں کی خاک پر بھی فدا ہے اگر وہ اس امر سے واقف ہیں تو پھر اس قسم کی تحریرات سے سوائے اس کے اور کیا غرض ہوسکتی ہے کہ ہمارے دلوں کو زخمی کیا جائے اور ہمارے سینوں کو چھیدا جائے اور ہماری ذلت اور بے بسی کو نہایت بھیانک صورت میں ہماری آنکھوں کے سامنے لایا جائے اور ہم پر ظاہر کیا جائے کہ مسلمانوں کے احساسات کی ان لوگوں کو اس قدر بھی پرواہ نہیں جس قدر کہ ایک امیر کبیر کو ایک ٹوٹی ہوئی جوتی کی ہوتی ہے لیکن میں پوچھتا ہوں کہ کیا مسلمانوں