ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 114 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 114

114 1۔دشمن کے مقابلہ کے وقت ہم آپس میں متحد ہو جائیں اور ایک دوسرے کے مددگار بنیں۔2 مسلمان اپنے ماحول کے حالات سے باخبر رہیں اور جس جگہ وہ ہندوؤں کے حملہ کا دفاع نہیں کر سکتے وہ ہمیں اطلاع دیں۔ہم اپنے آدمی بھیج دیں گے۔جہاں جہاں آریوں اور عیسائیوں کا زور ہو۔وہاں مسلمان تبلیغی جلسے کر کے ہمارے واعظ بلوائیں۔اس اعلان پر اسلام کا در در رکھنے والا طبقہ احمدی واعظوں کو اپنے جلسوں میں بھی بلانے لگا اور احمدی مسلمان اور غیر احمدی مسلمان دونوں ایک پلیٹ فارم پر اسلام کا دفاع کرنے لگے۔چنانچہ اس زمانہ کے اخبارات میں ایسی مثالیں بکثرت موجود ہیں کہ دوسرے مسلمانوں کو جہاں بھی اور جس وقت بھی آریوں یا عیسائیوں کے خلاف جلسہ کرنے یا مناظرے کرنے کی ضرورت پیش آئی احمدی مبلغ دعوت ملتے ہی وہاں بلا تامل پہنچے اور انہوں نے مخالفین اسلام کے دانت کھٹے کر دیئے۔چنانچہ خواجہ حسن نظامی صاحب نے اپنی کتاب "مسلمان مہارا نا " میں اعتراف کیا کہ اگر چہ میں قادیانی عقیدہ کا نہیں ہوں ، نہ کسی قسم کا میلان میرے دل میں قادیانی جماعت کی طرف ہے۔لیکن میں اس بات کو تسلیم کرتا ہوں کہ قادیانی جماعت اسلام کے حریفوں کے مقابلہ میں بہت مؤثر اور پر زور کام کر رہی ہے " الفضل 31 مئی 1927 ء بحوالہ تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ 574) سید کشفی شاہ نظامی صاحب سیکر ٹری پراونشل تنظیم کمیٹی بر مانے (حضور کی خدمت میں ) لکھا۔" آپ نہایت غیرت کے ساتھ اس حملہ کے روکنے میں آگے بڑھتے ہیں اور میں مسلمانان برما کی طرف سے بغیر مبارکباد دیے ہوئے نہ رہوں گا کہ یقینا آپ پر جوش مقابلہ کے لئے آمادہ ہیں۔میں امید کرتا ہوں کہ آپ کے مرید بھی آپ کے صحیح جذبات کا اندازہ کرتے ہوئے آپ کے اس کارخیر میں اسی اخلاص کے ساتھ کار بند ہوں گے۔" ( جماعت احمدیہ کی اسلامی خدمات بحوالہ تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ 575) حضور اسلام کی فتح کی سکیم دے کر خود چین سے نہیں بیٹھے بلکہ مختلف مقامات کا دورہ کر کے جہاں مسلمانان ہند کی رہنمائی فرمائی وہاں اسلام کے لئے غیرت و حمیت کو جگانے کے لئے پر جوش ولولہ انگیز لیکچرز بھی دیئے۔چنانچہ آپ کے 2 مارچ 1927 ء کے لیکچر لاہور نے پورے ہندوستان کو ہلا کر رکھ دیا اور اس تقریر کا چرچا ہند و مسلم پریس میں یکساں طور پر ہوا۔اخبار" تنظیم " نے مسلمانوں کو متحد کرنے اور رکھنے کے لئے آپ کی ایک تجویز کا ذکر کیا۔اگر مسلمان اس تجویز پر متحد ہو جاتے تو آج جابجا کفر کی فیکٹریاں نظر نہ آتیں اور اس حوالہ سے اسلام بدنام نہ ہوتا۔چنانچہ اخبار" تنظیم " نے لکھا:۔" آپ کی تجویز ہے کہ مسلمان سیاسی معاملات میں سیاسی اتحاد کو پیش نظر رکھیں اور ان تمام فرقوں کو مسلمان سمجھ لیں جو اسلام کے دعویدار ہیں اور جنہیں غیر مسلم مسلمان کہتے ہیں۔کیونکہ غیر مسلم کسی فرق و امتیاز کے بغیر تمام