ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 113
113 لئے اس مقابلہ کے میدان میں نہیں اُتر سکتے تو فیصلہ کر دیں کہ ہم اس جنگ کے لئے تیار نہیں۔لیکن اگر وہ اس جنگ کے لئے تیار ہیں تو میں انہیں کہتا ہوں کہ وہ ایک جان ہو کر مضبوط عزم کے ساتھ کھڑے ہو جا ئیں اور ایسی بلند آواز اٹھائیں کہ ہر ہندو کے کان میں وہ پہنچے۔اور کوئی شخص اس آواز کو دبانہ سکے" (خطبات محمود جلد 11 صفحہ 71-73) اپنی جماعت کو مخاطب کرنے کے بعد حضور نے خواب غفلت میں پڑے مسلمانوں کو آنے والے عظیم خطرہ سے ہوشیار اور بیدار کرتے ہوئے اشتراک عمل کی دعوت دی اور فرمایا:۔" وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا دعویٰ رکھتے ہیں۔اگر اور کچھ نہیں تو کم از کم ان کے ہونٹوں سے تو یہ بات نکلتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ان کے اندر ہے اور پھر ان میں سے بعض تو اسلام کا در دبھی رکھتے ہیں۔پس جب یہ بات ان میں پائی جاتی ہے تو میں ان الفاظ کا ہی واسطہ دے کر انہیں کہتا ہوں کہ وہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے الفاظ بولتے ہیں۔ان کا لحاظ کر کے ہی وہ اس نازک وقت میں اسلام کی مدد کے لئے کھڑے ہو جائیں۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اس وقت یقینا وہی براہین اور دلائل کارگر ہو سکتے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بتائے ہیں مگر ضرورت اس بات کی ہے کہ گھر کی لڑائی چھوڑ کر دشمن کا مقابلہ کیا جائے۔میں یہ نہیں کہتا کہ غیر احمدی ہمارا مقابلہ نہ کریں۔بلکہ میں یہ کہتا ہوں کہ اسلام کے دشمنوں کے مقابلہ میں ہمارا مقابلہ نہ کریں۔جس جگہ احمدیت کی تبلیغ ہو۔بے شک اس جگہ وہ اپنا سارا زور لگائیں۔ہاں اتنی بات میں پھر بھی کہوں گا کہ دیانت کے ساتھ زور لگا ئیں۔کیونکہ بہت سی ہماری مخالفت ذاتی عداوت پر مبنی ہوتی ہے۔اور لوگ کسی مسئلے یا عقیدے کی بناء پر ہماری مخالفت نہیں کرتے۔بلکہ بسا اوقات بعض ذاتی دشمنیوں کے لحاظ سے کرتے ہیں۔اس لئے میں جہاں یہ کہوں گا۔کہ دشمن کے مقابلہ میں ہمارا مقابلہ نہ کریں اور جہاں احمدیت کی تبلیغ ہو وہاں پور از ور لگا ئیں۔وہاں میں یہ بھی کہوں گا کہ وہ دیانت کے ساتھ زور لگائیں اور ایمان کو مدنظر رکھتے ہوئے اور خدا کا خوف دلوں میں رکھتے ہوئے زور لگا ئیں۔تا ایسا نہ ہو کہ ذاتی مخالفت کی وجہ سے وہ اپنے موجودہ ایمان کو بھی کھو بیٹھیں۔وہ احمدیت کے برخلاف زور لگائیں۔لیکن جہاں آریہ اور عیسائیوں سے مقابلہ ہو وہاں یہ ثابت کر دیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دینے والوں سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ماننے والے اور ان کی عزت کرنے والے اچھے ہیں۔یہ کوئی بڑا مطالبہ نہیں۔وہ بے شک ہمیں دکھ دیں۔بے شک ہمیں نقصان پہنچا ئیں۔میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ وہ آریوں اور عیسائیوں کے مقابلہ کے وقت یہ بتا دیں کہ اسلام سے محبت کرنے والوں کو بہر حال ہم اسلام کے دشمنوں سے اچھا سمجھتے ہیں۔اور ہم ان کی پیٹھ میں خنجر مارنے کے لئے تیار نہیں۔اور یہ کوئی ایسا بڑا مطالبہ نہیں کہ جس کا پورا کرنا ایسے نازک وقت میں ان کے لئے مشکل ہو۔اس موجودہ مشکل کا علاج یہی ہے کہ وہ ان لوگوں کے مقابلہ کے وقت ہم سے متحد ہو جائیں۔اور اگر اس ذمہ داری کو سمجھ لیں تو خدا تعالیٰ کے فضل سے یہ نازک وقت قائم نہیں رہ سکتا۔" (خطبات محمود جلد 11 صفحہ 73-74) گویا اس سلسلہ میں حضور نے مسلمانان ہند سے تین باتوں کی خواہش کی۔