ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 112
112 "ہندوستان میں سپین کی طرح کا مشکل وقت اسلام کے لئے آیا ہوا ہے۔سپین مسلمانوں کا ملک تھا اس میں سینکڑوں سال تک مسلمانوں نے اسلام کا جھنڈا بلند رکھا۔سپین وہ ملک تھا جو ان ملکوں کے لئے جو آج متمدن اور مہذب ملک کہلاتے ہیں مسلمانوں کی وجہ سے بڑی بھاری درس گاہ تھا۔ان کے لئے یونیورسٹی کا کام دیتا تھا۔اور یہ وہ ملک تھا جس کے باشندے یورپ کے ملکوں کے باشندوں کو ان کی غیر مہذب حالت کی وجہ سے وحشی جاہل اور غیر متمدن کہتے تھے۔اور یورپ کے لوگ اس جگہ کے مسلمانوں سے سبق لیتے تھے۔اور ان سے علم پڑھتے تہذیب سیکھتے اور تمدن کے اصول حاصل کرتے تھے۔لیکن آج اس پین میں ایک بھی مسلمان نہیں۔یہ نہیں ہوا کہ وہاں کے مسلمانوں کی نسل قطع ہو گئی ہو۔یہ بھی نہیں ہوا کہ وہاں کے مسلمان اس ملک کو چھوڑ کر کسی اور ملک میں جاہے۔بلکہ یہ ہوا کہ سب نے عیسائی مذہب قبول کر لیا۔وہ پینی قوم جس کے باپ دادوں نے خون میں غوطے کھا کھا کر اسلام کو اس ملک میں قائم کیا تھا۔وہ مسلمان جو تو حید کے نام پر اپنا ذرہ ذرہ قربان کرنے پر آمادہ تھے۔وہ مسلمان جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں جان و مال شار کر دینے پر تیار تھے۔آج ان کی اولاد تو حید کی بجائے تثلیث پرست ہے آج ان مسلمانوں کی اولاد کے دل محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سے خالی ہیں۔اور صرف خالی ہی نہیں بلکہ گالیاں دیتے ہیں۔ان میں لاکھوں آدمی ایسے ہیں جنہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ ہماری رگوں میں مسلمانوں کا خون دوڑ رہا ہے۔کیا مسلمان چاہتے ہیں کہ ہندوستان میں بھی ان کی یہی حالت ہو؟ وہ قوم جو تعداد میں مسلمانوں سے بڑھ کر ہے۔وہ قوم جو مال میں مسلمانوں سے بڑھ کر ہے۔وہ قوم جوانتظام میں مسلمانوں سے بڑھ کر ہے۔وہ قوم جو استقلال میں مسلمانوں سے بڑھ کر ہے۔وہ قوم جو ذرائع میں مسلمانوں سے بڑھ کر ہے۔وہ قوم جو اسباب میں مسلمانوں سے بڑھ کر ہے۔وہ قوم جو طاقت اور علم میں مسلمانوں سے بڑھ کر ہے۔وہ ارادہ کر چکی ہے کہ جس طرح ہو لالچ سے، پیار سے، دھمکی دے کر، مار کر ہختی سے ، نرمی سے غرض کسی طرح بھی ہو ہندوستان کے مسلمانوں کو ہندو بنالے۔اور اگر وہ ہندو نہ بنیں تو ان کو جس طرح ہو ہندوستان سے نکال دے۔یہ وہ ارادہ ہے جو ہندو قوم نے جو توحید سے بالکل خالی ہے۔مسلمانوں کے متعلق کیا ہے۔اگر کوئی جماعت اس کے برخلاف آواز اٹھا سکتی ہے۔اگر کوئی جماعت سینہ سپر ہو کر اس کے مقابلہ کے لئے میدان میں آسکتی ہے تو وہ خدا تعالیٰ کے مامور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی قائم کردہ جماعت ہے۔پس یہ جو ہندوؤں کی طرف سے چیلنج دیا گیا ہے اگر احمدی جماعت اس کے جواب کے لئے میدان میں نکل کھڑی ہو تو یقینا اسلام کی فتح ہے۔اور یہ آخری جنگ ہوگی۔جس کے ذریعہ شرک ہمیشہ کے لئے مٹا دیا جائے گا اور توحید ہمیشہ کے لئے قائم کر دی جائے گی۔لیکن اگر احمدی جماعت نے اس زور کے ساتھ شرک کا مقابلہ نہ کیا اور اس جوش کے ساتھ توحید کی اشاعت کے لئے اٹھ نہ کھڑی ہوئی جو نبیوں کی جماعت کا خاصہ ہے تو ہمیشہ کے لئے تو حید مٹ جائے گی۔اور دنیا سے خدا کا نام محو ہو جائے گا۔پس میں احمدی دوستوں سے کہتا ہوں خواہ وہ قادیان کے رہنے والے ہوں خواہ باہر کے اگر وہ ایسا نہیں کر سکتے اور اسلام کے