ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 111
111 ہمیں وطن سے زیادہ عزیز ہیں اس پر کوئی ہندو یا عیسائی حاسد جلتا ہے تو جل مرے ہمیں اس کی کوئی پرواہ نہیں۔" (خطبات محمود جلد 23 صفحہ 241) حضرت خلیفہ مسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے اس مرحلہ پر غیرت اسلامی کا جواظہار فرمایا سے مخالفین احمد یت نے بھی بہت سراہا۔چنانچہ احراری اخبار "زمزم" نے اپنی 19 جولائی 1942ء کی اشاعت میں لکھا:۔"موجودہ حالات میں خلیفہ صاحب نے مصر اور حجاز مقدس کے لئے اسلامی غیرت کا جو ثبوت دیا ہے وہ یقیناً قابل قدر ہے اور انہوں نے اس غیرت کا اظہار کر کے مسلمانوں کے جذبات کی صحیح ترجمانی کی ہے۔" آنحضرت کی ناموس وعزت کے تحفظ اور مسلمانان ہند کی ترقی و بہبود کے لئے تحریک پنڈت شردھانند صاحب کے قتل نے ہندو قوم میں مسلمانوں اور اسلام کے خلاف زبر دست آگ لگا دی اور پشاور سے لے کر کلکتہ کے تمام ہندوؤں نے عزم کر لیا کہ وہ پنڈت شردھانند کا کام بہر کیف جاری رکھیں گے اور اپنی جان اور اپنا مال تک قربان کرنے سے دریغ نہیں کریں گے۔اس غرض کے لئے ایک "شروها نند میموریل فنڈ " قائم کیا گیا اور ہند و شدھی سبھا نے اپنی سرگرمیاں اور زیادہ تیز کر دیں تو 1927ء کو حضرت خلیفتہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس و عزت کے تحفظ اور مسلمانان ہند کی ترقی و بہبود کے لئے ایک زبر دست تحریک شروع کی جس نے دوسرے مسلمانوں میں بھی ایک نئی زندگی ، ایک نیا جوش اور ایک نیا ولولہ پیدا کر دیا اور وہ بھی متحد ہو کر جماعت احمدیہ کے دوش بدوش اسلام کی حفاظت کے لئے تیار ہو گئے۔ایک جھنڈے تلے جمع ہونے لگے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے جماعت کے سامنے ایک خطبہ جمعہ میں بڑے درد کے ساتھ یہ تشویشناک صورت رکھتے ہوئے بتایا کہ اب اسلام پر جو حملہ ہو گا۔اس کا دفاع ہمیں کرنا ہوگا۔چنانچہ حضور نے فرمایا: دیکھو ہندوستان میں آج کل اسلام پر خطر ناک وقت آیا ہوا ہے۔دشمن چاہتا ہے کہ اسلام کو مٹادے اور تو حید کو مٹا کر شرک کی بنیا درکھ دے اور اسلام کی جگہ ہندو مذہب قائم کر دے۔وہ بت پرست اقوام جن کی گھٹی میں شرک ملا ہوا ہے آج وہ خدائے واحد کی تو حید کے مثانے کے در پے ہیں۔پس میں آج ہر اس شخص سے جس کے دل میں اسلام کا درد ہے، ہر اس شخص سے جو اسلام کی ترقی اور عظمت کا خواہاں ہے ، ہر اس شخص سے جس نے اقرار کیا ہے کہ وہ دین کو دنیا پر مقدم رکھے گا یہ بات بڑے درد سے کہتا ہوں کہ اس کا فرض ہے کہ اس نازک وقت میں بیدار ہو جائے۔" خطبات محمود جلد 11 صفحہ 69-70) ہندوستان میں اسلام کی کیفیت کا آگے چل کر حضور یوں ذکر فرماتے ہیں: