ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 110 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 110

110 یہ مقامات روز بروز جنگ کے قریب آرہے ہیں اور خدا تعالیٰ کی کسی مشیت اور اپنے گناہوں کی شامت کی وجہ سے ہم بالکل بے بس ہیں اور کوئی ذریعہ ان کی حفاظت کا اختیار نہیں کر سکتے۔ادنی ترین بات جو انسان کے اختیار میں ہوتی ہے یہ ہے کہ اس کے آگے پیچھے کھڑے ہو کر جان دے دیں مگر ہم تو یہ بھی نہیں کر سکتے اور اس خطرناک وقت میں صرف ایک ہی ذریعہ باقی ہے اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں کریں کہ وہ جنگ کو ان مقامات مقدسہ سے زیادہ سے زیادہ دور لے جائے اور اپنے فضل سے ان کی حفاظت فرمائے۔وہ خدا جس نے ابرہہ کی تباہی کے لئے آسمان سے و با بھیج دی تھی اب بھی طاقت رکھتا ہے کہ ہر ایسے دشمن کو جس کے ہاتھوں سے ان مقدس مقامات اور شعائر کو کوئی گزند پہنچ سکے کچل دے۔۔۔۔پس میں دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور خدا تعالیٰ سے دعائیں کریں کہ وہ خود ہی ان مقامات کی حفاظت کے سامان پیدا کردے اور اس طرح دعائیں کریں جس طرح بچہ بھوک سے تڑپتا ہوا چلا تا ہے۔جس طرح ماں سے جدا ہونے والا بچہ یا بچہ سے محروم ہو جانے والی ماں آہ وزاری کرتی ہے اسی طرح اپنے رب کے حضور رو رو کر دعائیں کریں کہ اے اللہ ! تو خودان مقدس مقامات کی حفاظت فرما اور ان لوگوں کی اولادوں کو جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جانیں فدا کر گئے اور ان کے ملک کو ان خطرناک نتائج جنگ سے جو دوسرے مقامات پر پیش آرہے ہیں بچالے اور اسلام کے نام لیواؤں کوخواہ وہ کیسی ہی گندی حالت میں ہیں اور خواہ ہم سے ان کے کتنے اختلافات ہیں ان کی حفاظت فرما اور اندرونی و بیرونی خطرات سے محفوظ رکھ۔جو کام آج ہم اپنے ہاتھوں سے نہیں کر سکتے وہ خدا تعالیٰ کا ہاتھ کر دے اور ہمارے دل کا دکھ ہمارے ہاتھوں کی قربانیوں کا قائم مقام ( خطبات محمود جلد 23 صفحہ 237-238) ہو جائے۔" شعائر اللہ کی حفاظت ہمیں وطن کی حفاظت سے زیادہ عزیز ہے بعض متعصب ہند و ہمیشہ اعتراض کیا کرتے تھے کہ مسلمانوں کے دلوں میں ہندوستان کی نسبت مکہ اور مدینہ کی محبت بہت زیادہ ہے۔اس موقع پر حضور نے اس اعتراض کا بھی نہایت لطیف جواب دیتے ہوئے فرمایا۔" بے شک دین کی محبت ہمارے دلوں میں زیادہ ہے مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ وطن کی محبت نہیں ہے۔اگر ہمارا ملک خطرہ میں ہو تو ہم اس کے لئے قربانی کرنے میں کسی ہندو سے پیچھے نہیں رہیں گے لیکن اگر دونوں خطرہ میں ہوں یعنی ملک اور مقامات مقدسہ تو موخر الذکر کی حفاظت چونکہ دین ہے اور زندہ خدا کے شعائر کی حفاظت کا سوال ہے اس لئے ہم اسے مقدم کریں گے۔بیشک ہم عرب کے پتھروں کو ہندوستان کے پتھروں پر فضیلت نہ دیں گے لیکن ان پتھروں کو ضرور فضیلت دیں گے جن کو خدا تعالیٰ نے ہمارے لئے فضیلت کا مقام بنایا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک مادہ پرست ہند و کیا جانتا ہے کہ وطن اور خدا تعالیٰ کے پیدا کردہ شعائر میں کیا فرق ہے۔وہ عرفان اور نیکی نہ ہونے کی وجہ سے اس فرق کو سمجھ نہیں سکتا۔۔۔۔۔حُبُّ الوَطَنِ مِنَ الْإِيْمَان ہمارے ایمان کا جزو ہے مگر وہ گلیاں جن میں ہمارے پیارے آقا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم چلتے رہے ہیں۔وہ پتھر جنہیں خدا تعالیٰ نے ہمارے لئے عبادت کا مقام بنایا