ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 109
109 ارض مقدس پر محوری طاقتوں کے حملہ کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا۔ان پر خطر حالات میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے 26 جون 1942ء کے خطبہ جمعہ میں عالم اسلام کی نازک صورت حال کا دردناک نقشہ کھنچتے ہوئے بتایا کہ: اب جنگ ایسے خطرناک مرحلہ پر پہنچ گئی ہے کہ اسلام کے مقدس مقامات اس کی زد میں آگئے ہیں۔مصری لوگوں کے مذہب سے ہمیں کتنا ہی اختلاف کیوں نہ ہو وہ اسلام کی جو تو جیہ اور تفسیر کرتے ہیں ہم اس کے کتنے ہی خلاف کیوں نہ ہوں مگر اس سے انکار نہیں کر سکتے کہ ظاہری طور پر وہ ہمارے خدا، ہمارے رسول اور ہماری کتاب کو ماننے والے ہیں۔ان کی اکثریت اسلام کے خدا کے لئے غیرت رکھتی ہے ان کی اکثریت اسلام کی کتاب کے لئے غیرت رکھتی ہے اور ان کی اکثریت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے لئے غیرت رکھتی ہے۔اسلامی لٹریچر شائع کرنے اور اسے محفوظ رکھنے میں یہ قوم صف اول میں رہی ہے۔آج ہم اپنے مدارس میں بخاری اور مسلم وغیرہ احادیث کی جو کتابیں پڑھاتے ہیں وہ مصر کی چھپی ہوئی ہی ہیں۔اسلام کی نادر کتابیں مصر میں ہی چھپتی ہیں اور مصری قوم اسلام کے لئے مفید کام کرتی چلی آئی ہے۔اس قوم نے اپنی زبان کو بھلا کر عربی زبان کو اپنا لیا۔اپنی نسل کو فراموش کر کے یہ عربوں کا حصہ بن گئی اور آج دونوں قوموں میں کوئی فرق نہیں۔مصر میں عربی زبان عربی تمدن اور عربی طریق رائج ہیں اور محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کامذہب رائج ہے۔پس مصر کی تکلیف اور تباہی ہر مسلمان کے لئے دکھ کا موجب ہونی چاہئے خواہ وہ کسی فرقہ سے تعلق رکھنے والا ہو اور خواہ مذہبی طور پر اسے مصریوں سے کتنے ہی اختلافات کیوں نہ ہوں۔پھر مصر کے ساتھ ہی وہ مقدس سرزمین شروع ہو جاتی ہے جس کا ذرہ ذرہ ہمیں اپنی جانوں سے زیادہ عزیز ہے۔نہر سویز کے ادھر آتے ہی آجکل کے سفر کے سامانوں کو مدنظر رکھتے ہوئے چند روز کی مسافت کے فاصلہ پر ہی وہ مقدس مقام ہے جہاں ہمارے آقا کا مبارک وجود لیٹا ہے جس کی گلیوں میں محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے پائے مبارک پڑا کر تے تھے۔جس کے مقبروں میں آپ کے والا وشیدا خدا تعالیٰ کے فضل کے نیچے میٹھی نیند سور ہے ہیں۔اس دن کے انتظار میں کہ جب صور پھونکا جائے گا وہ لبیک کہتے ہوئے اپنے رب کے حضور حاضر ہو جائیں گے، دواڑھائی سو میل کے فاصلہ پر ہی وہ وادی ہے جس میں وہ گھر ہے جسے ہم خدا کا گھر کہتے ہیں اور جس کی طرف دن میں کم سے کم پانچ بارمنہ کر کے ہم نماز پڑھتے ہیں اور جس کی زیارت اور حج کے لئے جاتے ہیں، جو دین کے ستونوں میں سے ایک بڑا ستون ہے۔یہ مقدس مقام صرف چند سو میل کے فاصلہ پر ہے اور آج کل موٹروں اور ٹینکوں کی رفتار کے لحاظ سے چار پانچ دن کی مسافت سے زیادہ فاصلہ پر نہیں اور ان کی حفاظت کا کوئی سامان نہیں۔وہاں جو حکومت ہے اس کے پاس نہ ٹینک ہیں ، نہ ہوائی جہاز اور نہ ہی حفاظت کا کوئی اور سامان۔کھلے دروازوں اسلام کا خزانہ پڑا ہے بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ دیواریں بھی نہیں ہیں اور جوں جوں دشمن ان مقامات کے قریب پہنچتا ہے ایک مسلمان کا دل لرز جاتا ہے۔" ( خطبات محمو دجلد 23 صفحہ 231-232) خطبہ کے آخر میں حضور نے خاص تحریک فرمائی کہ احمدی، ممالک اسلامیہ کی حفاظت کے لئے نہایت تضرع اور عاجزی سے دعائیں کریں۔چنانچہ حضور نے فرمایا: