ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 108 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 108

108 ساتھ لوٹتا ہوگا نہ کہ شرک کرتا ہوگا۔صفا اور مروہ اور بعض دوسرے مقامات شعائر اللہ میں سے ہیں اور جو ان پر اعتراض کرتا ہے وہ ان پر اعتراض نہیں کرتا بلکہ قرآن کریم پر کرتا ہے کیونکہ قرآن کریم میں خدا تعالیٰ صفا اور مروہ کے متعلق فرماتا ہے کہ ان پر میرانشان ظاہر ہوا اور یہ شعائر اللہ میں سے ہیں۔" پھر اسی خطبہ کے اخیر پر فرمایا:۔( خطبات محمود جلد 9 صفحہ 252-258) "ہمارا فرض ہے کہ ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مزار کی حفاظت کریں۔اس لئے ہم دعا کرتے ہیں اور دعا کرتے رہیں گے کہ خدا تعالیٰ اس کی حفاظت کرے اور ہر اس ہاتھ کو روک دے جو مقامات مقدسہ کی بے حرمتی کے لئے اٹھے۔اگر حنفیوں کا ہاتھ بے حرمتی کے لئے اٹھے تو حنفیوں کے ہاتھ کو روک دے اور اگر وہابیوں کا اٹھے تو ان کے ہاتھ کو روک دے۔" (خطبات محمود جلد 9 صفحہ 371) اسرائیل کے وجود میں آنے کی وجہ سے مقامات مقدسہ کے بارے میں خدشات کا اظہار مشرق وسطی بالخصوص مکہ، مدینہ کے قرب وجوار میں اسلام کے دائگی دشمن یہودیوں نے اسرائیل کے نام سے جو بستی آباد کی ہے۔ان کے متوقع شر کو بھانپتے ہوئے حضرت خلیفتہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے جلسہ سالانہ 1951ء پر خطاب کرتے ہوئے فرمایا: "ہمارے آقا کے جوار میں دشمن اسلام کو بسا دیا گیا ہے۔میں نے ابتداء میں ہی اس خدشہ کا اظہار کیا تھا لیکن اب تو یہودی علانیہ اپنی کتابوں میں مدینہ منورہ اور مکہ معظمہ پر قابض ہونے کے ناپاک عزائم کا اظہار کرنے لگے ہیں۔علاوہ ازیں ایران میں تیل کا مسئلہ مصر کا برطانیہ سے تنازع ، سوڈان کی بے چینی اور شام کے فسادات یہ سب ایسے امور ہیں جو مسلمانوں کے لئے تکلیف دہ ہیں۔ہم تعداد میں بہت تھوڑے ہیں اس لئے ان مشکلات کے ازالہ کے لئے عملاً زیادہ حصہ نہیں لے سکتے لیکن کم از کم دعا کا ہتھیار تو ہمارے پاس ہے۔پس آؤ ہم دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی ان مشکلات کو اپنے خاص فضل سے دُور کرے اور نقصان کی بجائے ان مشکلات کو اسلام کی ترقی کا ذریعہ بنائے۔" الفضل 2 جنوری 1952 ء بحوالہ تاریخ احمدیت جلد 14 صفحہ 400-401) مقامات مقدسہ کی حفاظت کے لئے دعا کی تحریک دوسری جنگ عظیم کے دوران وسط 1942ء میں محوری طاقتوں کا دباؤ مشرق وسطی میں زیادہ بڑھ گیا اور جرمن فوجیں جنرل ارد میل کی سرکردگی میں 21 جون کو طبروق کی قلعہ بندیوں پر حملہ کر کے برطانوی افواج کو شکست فاش دینے میں کامیاب ہو گئیں جس کے بعد ان کی پیش قدمی پہلے سے زیادہ تیز ہوگئی۔اور یکم جولائی تک مصر کی حدود کے اندر گھس کر العالمین کے مقام تک پہنچ گئیں جو اسکندریہ سے تھوڑی دور مغرب کی جانب برطانوی مدافعت کی آخری چوکی تھی جس سے مصر براہ راست جنگ کی لپیٹ میں آگیا اور مشرق وسطی سے دوسرے اسلامی ممالک خصوصاً حجاز کی