ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 107 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 107

107 سمجھ سکے یا ان کے حملے کو مناسب خیال کرے۔پس نجدیوں کے حملے نے ایک نازک حالت پیدا کر دی ہے اور اس قسم کے خطرہ کی صورت ہوگئی ہے کہ زیادہ نقصانات ہو جانے پر اگر دشمنوں کی طرف سے اعتراض ہوا تو ہمارے پاس کوئی جواب نہیں ہوگا۔پس میں اس موقع پر خاموش رہنا پسند نہیں کرتا اور اس خطبہ کے ذریعے یہ اعلان کرتا ہوں کہ ہم نجدیوں کے اس فعل کو نہایت نفرت اور حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں اور جو لوگ ان کی تائید کر رہے ہیں ان کے سینے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سے خالی سمجھتے ہیں۔۔۔۔۔۔ہماری ان باتوں کو دیکھ کر نجدیوں کے حامی کہیں گے کہ یہ بھی شریف علی کے آدمی ہیں لیکن اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توقیر کے متعلق آواز اٹھاتے ہوئے شریف کا آدمی چھوڑ کر شیطان کا آدمی بھی کہہ دیں تو کوئی حرج نہیں۔ہم تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر سب سے محبت رکھتے ہیں۔یہاں تک کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بھی اگر کوئی محبت رکھتے ہیں۔تو صرف اس لئے کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام تھے اور آپ کو جو کچھ حاصل ہوا۔اسی غلامی کی وجہ سے حاصل ہوا۔حضرت مسیح موعود آپ کی ظلمیت اور صفات سے ایسا حصہ رکھتے تھے کہ دنیا کے سردار بن گئے۔بے شک ہم قبوں کی یہ حالت دیکھ کر خاموش رہتے لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور عزت کی خاطر ہم آواز بلند کرنے کے لئے مجبور ہو گئے ہیں۔آج اگر ہماری حکومت ہوتی تو ایک دن کے لئے بھی ہم خاموش نہ رہتے اور فوراً ہم ان لوگوں کو روکتے جو مقامات مقدسہ کی ہتک کر رہے ہیں ہم ان کی لڑائی میں دخل نہ دیتے لیکن انہیں مساجد کے منہدم کرنے اور مقامات مقدسہ کے مسمار کرنے سے باز رکھنے کی ضرور کوشش کرتے۔۔۔۔۔۔۔پس میں نصیحت کرتا ہوں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مزار مقدس اور مسجد نبوی اور دوسرے مقامات کو اس ہتھیار سے بچا ئیں۔ہماری جماعت کے لوگ راتوں کو اٹھیں اور اُس بادشاہوں کے بادشاہ کے آگے سر کو خاک پر رکھیں۔جو ہر قسم کی طاقتیں رکھتا ہے اور عرض کریں کہ وہ ان مقامات کو اپنے فضل کے ساتھ بچائے۔دن کو گڑ گڑا ئیں تا کہ خدا تعالیٰ ان لوگوں کو اس بات کی سمجھ عطا فرمائے کہ ان کے انہدام سے ہاتھ پھینچ لیں کیونکہ ان کے ساتھ روایات اسلامی کا تعلق ہے۔' خطبات محمود جلد 9 صفحہ 252-258) پھر حضور نے معاملات حجاز بارے اپنے موقف کو کھول کر بیان کرتے ہوئے 27 نومبر 1925ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا: " یہ درخت جس کے نیچے صلح حدیبیہ کے سے اہم موقع پر بیعت لی گئی۔معمولی درخت نہیں بلکہ شعائر اللہ میں سے تھا اور شعائر اللہ سے جس حد تک ایمان میں تازگی اور دلوں میں روحانیت پیدا ہوتی ہے اس کا اعتراف اہل حدیث گروہ کو بھی ہوگا۔پس جو شخص اس کے پاس اس نیت سے جاتا ہے کہ ایمان میں مضبوطی پیدا ہو اور خدا تعالیٰ کے جلال کے ظاہر ہونے کی جگہ کو دیکھنے سے روحانیت پیدا کرے۔میں سمجھتا ہوں کہ وہ ایک نیک کام کرتا ہے۔پس میں یقین کرتا ہوں کہ جو کوئی بھی اس درخت کے پاس اسے شعائر اللہ سمجھ کر جاتا ہوگا وہ ایمان سے بھرے ہوئے دل کے