ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 106
106 ہے۔ایک فریق مقامات مقدسہ کی تو ہین کے خلاف اس لئے آواز اٹھا رہا ہے کہ اسے نجدیوں سے عداوت ہے اور دوسرا فریق مقامات مقدسہ کو نقصان پہنچنے سے آگاہ ہوتا ہوا اس لئے نجدیوں کی حمایت کر رہا ہے کہ اسے خاندان شریف مکہ سے عداوت ہے جس کے خلاف نجدی برسر پیکار ہیں اور جس کی بجائے خود مدینہ پر قابض ہونا چاہتے ہیں اس طرح یہ لوگ اس نہایت اہم اور ضروری معاملہ میں دخل دے رہے ہیں اور وہ چیز جو ان دونوں گروہوں کے مدنظر ہونی چاہئے تھی وہ ان میں نہیں ہے ، وہ چیز ہے محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم۔اب یہ لڑتے تو ہیں لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے لئے نہیں بلکہ اپنی اپنی ذاتی عداوت کے لئے۔حالانکہ ایسے موقع پر ان کی یہ روش نہایت ہی معیوب ہے۔دیکھو ایک باپ کے بیٹے آپس میں تو لڑ سکتے ہیں لیکن وہ باپ سے نہیں لڑ سکتے اور جب باپ کی عزت اور حرمت کا سوال ہو تو اس وقت ان کی لڑائی نہایت ہی شرمناک ہے۔نجدی شریفیوں کے ساتھ تو جنگ کر سکتے ہیں اور ان پر گولہ باری بھی کر سکتے ہیں لیکن وہ یہ کسی طرح نہیں کر سکتے کہ مقامات مقدسہ کو اس گولہ باری سے نقصان پہنچائیں اور خاص کر مسجد نبوی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ مبارک کی ہتک کریں اور دوسرے لوگ بھی اگر ان کے دل میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت ہوتی تو وہ یہ روش اختیار نہ کرتے۔اپنی پرانی عداوتوں کی بناء پر ایک دوسرے کے خلاف اظہار غصہ کرنے لگ جاتے اور اصل معاملہ کی کوئی پرواہ ہی نہ کرتے۔یہ تو مانا نہیں جاسکتا کہ نجدیوں نے جان بوچھ کر روضہ مبارک ، مسجد نبوی اور دیگر مقامات مقدسہ پر گولے مارے ہوں گے۔کیونکہ آخر وہ بھی مسلمان کہلاتے ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں اور آپ کی عزت و توقیر کا بھی دم بھرتے ہیں لیکن باوجود ان سب باتوں کے جو کچھ ہوا ہے اس سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ نجدیوں نے جنگ میں صرف اسی بات کو مد نظر رکھا ہے کہ مدینہ ہم نے لینا ہے اور یہ مد نظر نہیں رکھا کہ کسی مقدس مقام کو نقصان نہ پہنچے۔انہوں نے یہی خیال کیا کہ ہاشمیوں کو یہاں سے نکال دیں لیکن یہ خیال نہ کیا کہ ہمارے بے تحاشا گولہ باری سے روضہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مسجد نبوی کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے اور دوسرے مقامات پر بھی ضر میں لگ سکتی ہیں اس طرح گو انہوں نے دیدہ دانستہ مقامات مقدسہ کو نقصان نہ پہنچایا ہومگر ان کی بے احتیاطی سے (خطبات محمود جلد 9 صفحہ 246-248) نقصان ضرور پہنچا۔" پھر آپ نے اس مضمون کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا۔ان نجدیوں سے تو ترک ہی ہزار درجہ بہتر تھے۔انہوں نے جب شریف کے بغاوت کرنے کی وجہ سے مکہ پر گولہ باری کی اور ایک گولہ حرم کے قریب جا گرا اور اس کے پردے کو آگ لگ گئی تو اس پر انہوں نے فی الفور ہتھیار ڈال دیئے اور کہہ دیا کہ ہم حملہ نہیں کرتے۔تم ہی قابض رہو لیکن نجدیوں نے جو حملہ کیا وہ نامعقول سے نامعقول آدمی کے نزدیک بھی کوئی عمدہ کام نہیں اور پھر ان کی اس گولہ باری کو دیکھ کر جس سے مقامات مقدسہ، مسجد نبوی و مزار سید نا حمزہ اور پھر سب سے بڑھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ مبارک کو نقصان پہنچ رہا ہے۔کوئی شخص نہیں جو انہیں اچھا