ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 105 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 105

105 گی۔اب کوئی سہارا نہیں جو عیسائیت کو میرے حملوں سے بچا سکے۔خدا میرے ہاتھ سے اس کو شکست دے گا اور یا تو میری زندگی میں ہی اس کو اس طرح کچل کر رکھ دے گا کہ وہ سر اٹھانے کی بھی تاب نہیں رکھے گی اور یا پھر میرے بوئے ہوئے بیج سے وہ درخت پیدا ہو گا جس کے سامنے عیسائیت ایک خشک جھاڑی کی طرح مرجھا کر رہ جائے گی اور دنیا میں چاروں طرف اسلام اور احمدیت کا جھنڈا انتہائی بلندیوں پر اڑتا ہوا دکھائی دے گا۔" الموعود از انوار العلوم جلد 17 صفحہ 647-648) مقامات مقدسہ کی بے حرمتی اور حضرت خلیفہ المسح الثانی کا احتجاج 1925ء میں جب یہ خبر آئی کہ محمد بن عبد الوہاب کے معتقدین کی گولہ باری سے حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ مبارک کے گنبد کو نقصان پہنچا ہے تو اس دلخراش خبر پر آپ نے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے مورخہ 4 ستمبر 1925 ء کو خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا۔جس میں آپ نے فرمایا:۔رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم سے ہمارا ابنیت کا تعلق ہے وہ ہمارے روحانی باپ ہیں اور ہم ان کے روحانی بیٹے ہیں۔دوسرے مسلمان بھی آپ سے یہ تعلق رکھتے ہیں اور وہ صحیح معنوں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی بیٹے ہیں یا نہیں۔بہر حال وہ دعوی کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی بیٹے ہیں۔پس اگر کسی باپ کے بیٹے آپس میں لڑیں تو جب آپ کی عزت اور حرمت خطرہ میں ہو اس وقت آپس کی لڑائی کی کوئی پرواہ نہیں کی جاسکتی۔چند دن ہوئے ایک سوال پیدا ہوا ہے اور وہ مدینہ منورہ کی لڑائی کے متعلق ہے۔اس میں ہمارے دخل دینے سے ممکن ہے مسلمان ناراض ہوں لیکن ہمیں ان کی اس قسم کی ناراضگی کی کوئی پرواہ نہیں۔ہمارا حق ہے کہ ہم اس معاملہ میں دخل دیں کیونکہ ہم دعوی کرتے ہیں کہ اگر کوئی قوم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی فرمانبردار ہے تو وہ ہماری جماعت ہے اگر کوئی جماعت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقی روحانی اولا داس وقت ہے تو وہ ہماری جماعت ہے۔اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت پر قربان ہو جانے والے کوئی لوگ ہیں تو وہ ہم ہی ہیں۔پس ہم جو خیالات ظاہر کریں وہ اس حق کی وجہ سے ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلق کے باعث ہمارا ہے اور آپ کے احترام و ادب کی ذمہ داری اگر کسی پر ہے تو وہ ہماری ہی جماعت پر ہے۔پس ان لوگوں کے کہنے سے ہمارا یہ حق زائل نہیں ہو جاتا اور ہم اسے چھوڑ نہیں سکتے۔بہت سے لوگ واقف ہوں گے کہ نجدیوں کی شریفوں کے ساتھ جولڑائی ہو رہی ہے اس میں نجدیوں کی طرف سے مقامات مقدسہ کو بہت نقصان پہنچ رہا ہے بعض مقامات کی دیوار میں شکستہ ہوگئی ہیں اور بعض کے قبے گر گئے ہیں مسجد نبوی کو بھی نقصان پہنچا ہے۔حتی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ مبارک کی عمارت پر بھی اثر پڑا ہے۔۔۔۔۔۔لیکن افسوس ہے کہ ہندوستان کے مسلمانوں نے اسے پارٹیوں، گروہوں اور فرقہ بندیوں کا سوال بنالیا