ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع

Page 103 of 516

ناموسِ رسالت ؐ پر حملوں کا دفاع — Page 103

103 جھنڈے بلند ہونے پر بھی خوشی ہوتی ہے۔ہمیں عرب کے جھنڈے بلند ہونے پر بھی خوشی ہوتی ہے۔ہمیں ایران کے جھنڈے بلند ہونے پر بھی خوشی ہوتی ہے۔مگر ہمیں حقیقی خوشی تب ہوگی جب سارے ملک آپس میں اتحاد کرتے ہوئے اسلامستان کی بنیا درکھیں۔ہم نے اسلام کو اس کی پرانی شوکت پر قائم کرنا ہے۔ہم نے خدا تعالیٰ کی حکومت دنیا میں قائم کرنی ہے۔ہم نے عدل و انصاف کو دنیا میں قائم کرنا ہے اور ہم نے عدل وانصاف پر مبنی پاکستان کو اسلامک یونین کی پہلی سیڑھی بنانا ہے۔یہی اسلامستان ہے جو دنیا میں حقیقی امن قائم کرے گا اور ہر ایک کو اس کا حق دلائے گا۔جہاں روس اور امریکہ فیل ہوا صرف مکہ اور مدینہ ہی انشاء اللہ کامیاب ہوں گے۔یہ چیزیں اس وقت ایک پاگل کی یہ معلوم ہوتی ہیں۔مگر دنیا میں بہت سے لوگ جو عظیم الشان تغیر کرتے رہے ہیں وہ پاگل ہی کہلاتے رہے ہیں۔اگر مجھے بھی لوگ پاگل کہہ دیں تو میرے لئے اس میں شرم کی کوئی بات نہیں میرے دل میں ایک آگ ہے، ایک جلن ہے، ایک تپش ہے۔جو مجھے آٹھوں پہر بے قرار کھتی ہے۔میں مسلمانوں کو ان کی ذلت کے مقام سے اٹھا کر عزت کے مقام پر پہنچانا چاہتا ہوں۔میں پھر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کو دنیا کے کونے کونے میں پھیلانا چاہتا ہوں۔میں پھر قرآن کریم کی حکومت دنیا میں قائم کرنا چاہتا ہوں۔میں نہیں جانتا کہ یہ بات میری زندگی میں ہوگی یا میرے بعد لیکن میں یہ جانتا ہوں کہ میں اسلام کی بلند ترین عمارت میں اپنے ہاتھ سے ایک اینٹ لگانا چاہتا ہوں۔یا اتنی اینٹیں لگانا چاہتا ہوں جتنی اینٹیں لگانے کی خدا مجھے توفیق دے دے۔میں اس عظیم الشان عمارت کو مکمل کرنا چاہتا ہوں یا اس عمارت کو اتنا اونچا لے جانا چاہتا ہوں جتنا اونچالے جانے کی اللہ تعالیٰ مجھے توفیق دے دے اور میرے جسم کا ہر ذرہ اور میری روح کی ہر طاقت اس کام میں خدا تعالیٰ کے فضل سے خرچ ہوگی اور دنیا کی کوئی بڑی سے بڑی طاقت بھی میرے اس ارادے میں حائل نہیں ہوگی۔" تاریخ احمدیت جلد 11 صفحہ 455-456) ظہور مصلح موعود کا دعویٰ اور اسلام کی عزت کو قائم رکھنے کا عزم 1944ء کے جلسہ سالانہ کے موقع پر 28 دسمبر کو قادیان میں حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ نے ایک پر شوکت تقریر فرمائی۔جس میں آپ نے پیشگوئی مصلح موعود کے حوالہ سے دلائل اور واقعات سے روز روشن کی طرح ثابت فرمایا کہ میں ہی اس کا مصداق ہوں۔آپ نے چار گھنٹے پر محیط اپنے اس انقلاب آفریں لیکچر کے آخر میں جلالی رنگ میں بعض امور کی طرف توجہ دلائی۔یہ الفاظ آج تاریخ احمدیت میں آب زر سے لکھے جانے کے لائق ہیں اور یہ الفاظ اپنی ذات میں اس امر کی عکاسی کر رہے ہیں کہ آپ کا دل دشمنان اسلام کے اعتراضات کا جواب دینے اور اسلام کی عزت کے قیام کے لئے کس قدر بے چین رہتا تھا۔آپ فرماتے ہیں۔" اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کے رحم سے وہ پیشگوئی جس کے پورا ہونے کا ایک لمبے عرصہ سے انتظار کیا جارہا تھا۔اللہ تعالیٰ نے اس کے متعلق اپنے الہام اور اعلام کے ذریعہ مجھے بتا دیا ہے کہ وہ پیشگوئی میرے وجود میں پوری ہو